ویب ڈیسک(ثمرعباس): اداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت ، تحقیقات میں اہم پیشرفت، کراچی میں پرسرار حالات میں جاں بحق ہونے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں تفتیشی اداروں کو اہم شواہد حاصل ہوئے ہیں۔
پولیس اور فرانزک ماہرین پر مشتمل پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ اداکارہ کی ذاتی اشیاء سے کئی اہم سراغ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اداکارہ کی براؤن کلر کی ذاتی ڈائری سے ان کے تمام موبائل فونز اور ای میل اکاؤنٹس کے پاسورڈز تحریری شکل میں ملے ہیں، جس کی مدد سے تحقیقات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر کے زیراستعمال تین واٹس ایپ اکاؤنٹس تھے، جن میں ایک غیر ملکی نمبر جبکہ دو پاکستانی نمبروں پر بنے ہوئے تھے۔ اداکارہ کے فلیٹ سے دو اسمارٹ فونز، ایک پرانا نوکیا فون، ایک ناقابل استعمال لیپ ٹاپ اور ایک ٹیبلیٹ برآمد کیا گیا ہے، تاہم ان کا ایک آئی فون تاحال مسنگ ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق اداکارہ کے کچھ آخری پیغامات 6 اور 7 اکتوبر کو بھیجے گئے، جن میں پانچ افراد سے حال احوال دریافت کیا گیا تھا، جن میں ایک ان کا بھائی اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔
پولیس کے مطابق چھ اکتوبر سے پہلے کے میسجز موبائل میں دستیاب نہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چیٹ ڈیلیٹ کی گئی ہے، جس کی فرانزک جانچ جاری ہے۔
تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ اداکارہ حمیرا اصغرمالی مشکلات کا شکار تھیں۔ فلیٹ میں راشن موجود نہیں تھا، فریج خالی تھا اور کئی ماہ سے کرایہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ اداکارہ کے ذاتی سامان میں سونے کے زیورات نہیں تھے، اور نہ ہی کیش رقم صرف آرٹیفیشل جیولری پائی گئی۔ ان کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل پیر کو چیک کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا ان کے پاس کوئی رقم موجود تھی یا نہیں۔
پولیس کے مطابق جب فلیٹ کا دروازہ توڑا گیا تو حمیرا اصغر کی لاش اوندھی پڑی ہوئی تھی، دونوں ہاتھ سینے پر رکھے گئے تھے، اور ایک پاؤں میں چپل بھی تھی۔ بظاہر لگتا ہے کہ ہارٹ فیل ہوا تاہم حتمی بات مکمل تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اداکارہ چار منزلہ بلڈنگ کے تھرڈ فلور پر اکیلی رہائش پذیر تھیں، جبکہ اوپر کا چوتھا فلور خالی اور سامنے کے فلیٹ میں دیگر افراد مقیم تھے۔ جبکہ سیکنڈ اور فرسٹ فلور پر رہائش تھی تلاشی کے دوران فلیٹ سے منشیات کے استعمال کے شواہد نہیں ملے، البتہ سگریٹ کے خالی پیکٹس ضرور پائے گئے۔
تحقیقاتی ٹیم کو اداکارہ کے موبائل سے ڈرافٹ ای میل بھی ملی ہے، جو سینڈ نہ ہو سکی۔ ای میل میں اداکارہ نے کسی کمپنی سے شوٹ کی ادائیگی نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے، جسے پولیس تحقیقات کا حصہ بنا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکارہ کے موبائل فونز 10 اکتوبر 2024 کو بند ہو گئے تھے، جبکہ ان کے فلیٹ کی بجلی بھی اکتوبر کے دوران منقطع کر دی گئی تھی۔ جن پانچ افراد کو آخری میسجز کیے گئے،ان کو بیان کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
فرانزک ٹیمز موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل مواد کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہیں تاکہ واقعے کی اصل نوعیت کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔
اداکارہ حمیرا اصغر کی موت ایک پراسرار معمہ بنی ہوئی ہے۔ اب تک کے شواہد مالی پریشانی، تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، مگر تحقیقات کے بعد ہی اصل حقیقت سامنے آ سکے گی۔