امریکا کےساتھ بھارت کی دوغلی پالیسی اور بدلتے پینترے،گودی میڈیا کی تنقید جاری

امریکا کےساتھ بھارت کی دوغلی پالیسی اور بدلتے پینترے،گودی میڈیا کی تنقید جاری
کیپشن: امریکا کےساتھ بھارت کی دوغلی پالیسی اور بدلتے پینترے،گودی میڈیا کی تنقید جاری

ویب ڈیسک: امریکا کے ساتھ بھارت کی دوغلی پالیسی اور بدلتے پینترے، گودی میڈیا کی امریکا پر تنقید جاری ہے جب کہ معروف بھارتی دفاعی صحافی اور اینکر شیو ارور نے ایکس پر امریکا مخالف ٹوئٹ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق شیو ارور لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ہاتھوں 26 بھارتیوں کے قتل کے ہفتوں بعد، ٹرمپ پاک فوج کے سربراہ کی میزبانی کرنے والے ہیں،  امریکی سینٹرل کمانڈ جنرل پاکستان کو "غیر معمولی شراکت دار" قرار دیتے ہیں،  دہشت گردی کے بارے میں امریکی دوغلا پن کبھی واضح نہیں ہوا۔

شیو ارور کی ٹویٹ بھارت کی سفارتی ناکامی کا کھلا اعتراف ہے۔

دوسری جانب بھارتی اداکار پرکاش راج نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیکار، بے شرم، سنگدل اور بصارت سے محروم آدمی ہے جو ہمارے پاس بطور وزیراعظم ہے، جب خود بھارتی صحافی مان رہے ہیں کہ امریکا پاکستان کو اہمیت دے رہا ہے، تو دنیا کو بھارت کے شور پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں، 26 لاشوں کے بعد بھی بھارت عالمی حمایت حاصل نہ کر سکا، یہ اس کی سفارتی تنہائی کی سب سے بڑی علامت ہے۔

بھارت کا رونا یہ ہے کہ امریکا نے پاکستان کو دعوت دی، مگر دنیا بھارت کے بیانیے پر یقین نہیں کر رہی، بھارت کی حکومت کی خارجہ پالیسی خود اس کے میڈیا کو بھی ہضم نہیں ہو رہی،جب بھارت کے اپنے صحافیوں کو امریکا پر بھروسہ نہیں رہا، تو دنیا کیسے کرے؟۔

شیو ارور جیسے دفاعی تجزیہ کار جب امریکا پر انگلی اٹھائیں، تو بھارت کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ جاتا ہے، بھارت پاکستان کو تو سفارتی تنہائی میں دھکیلنا چاہتا ہے مگر خود امریکا سے شکایت کررہا ہے،کل تک امریکا کو ‘strategic partner’ کہنے والا بھارت آج امریکا پر ہی تنقید کر رہا ہے۔

بھارت کی خارجہ پالیسی اب بیانات، جذبات اور ٹویٹس کے رحم و کرم پر ہے،جب خود بھارتی میڈیا امریکی فیصلوں پر رو رہا ہو، تو پاکستان پر الزام لگانا صرف ایک بہانہ رہ جاتا ہے،شیو ارور کی ٹویٹ ایک سوال نہیں، بھارت کی سفارتی بے بسی کا اقرار ہے،یہ اعتراف ہے کہ بھارت کے نعرے ‘عالمی سفارتی کامیابی’ کے محض فریب ہیں اگر امریکا پاکستان کو خوش آمدید کہتا ہے، تو اس پر شور مچانے کی بجائے بھارت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،دنیا بھارت کی شکایتیں سن سن کر تھک چکی ہے، اب بھارت کے صحافی بھی اس شور میں شامل ہو گئے ہیں۔

Watch Live Public News