ویب ڈیسک: پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بجٹ 2025 کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظور احمد نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی موجودہ معاشی اقدامات کے خلاف ہر حد تک جائے گی اور اس احتجاج کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہو گی۔
چوہدری منظور نے کہا کہ "آج وزیر دفاع خود سپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کو مالی فحاشی قرار دے رہے ہیں، مگر یہ صرف انہی کی نہیں، بلکہ کابینہ، پارلیمنٹیرینز اور عدلیہ سمیت تمام اشرافیہ کی تنخواہوں میں اضافے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔"ایک طرف غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، کسان رُل رہا ہے، اور عالمی بینک خود غربت کی بلند شرح پر تشویش ظاہر کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے اشرافیہ کی مراعات اور تنخواہوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10 سال کے بعد پنشن بند کردی جائیگی، یہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے،آپ کس مہنگائی کا تذکرہ کرتے ہیں؟ غربت اور مہنگائی بارے 2018ء کی مردم شماری کے مطابق 10 کروڑ سے زائد لوگ غربت سے نیچے ہیں،آپ نے ہر شعبے کی 200 فیصد سے زائد تنخواہ بڑھا دی، دوسری طرف محنت کش کی باری آئے تو آپ کہتے ہیں مہنگائی شرح کے مطابق اضافہ ہوتا،6 ہزار 200 ارب روپے کے پیسہ کا ضائع آپ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہوا۔
چوہدری منظور نے کہا کہ کونسا طبقہ خوش ہے، پانچ بڑی فصلیں اس وقت مائنس میں ہے،اس وقت کپاس، چاول، مکئی کم پیدا ہورہی ہے تو پھر زراعت کہاں سے آگے بڑھی ہے،زراعت کو اس وجہ سے تباہ کررہے ہیں تاکہ آپ کو شہروں سے سستی لیبر میسر آ جائے،ہم نے 50 فیصد تنخواہ کا اضافے کا مطالبہ کیا تھا مگر آپ کو اشرافیہ کی فکر تھی عوام کی نہیں،کم از کم تنخواہ 37000 ہزار مختص ہےاس میں بجلی کا بل ہی پورا ہوجاتا ہے،غریب کدھر جائے۔