ویب ڈیسک: محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ کی طرف سے اساتذہ/ ٹیچنگ فیکلٹی کی تقرری اور تبادلوں سے متعلق پالیسی تشکیل دے دی ۔
1- تمام BS-17 اور اس سے اوپر کی ٹیچنگ فیکلٹی کو سندھ بھر میں انتظامی بنیادوں یا فوری ضرورت کے تحت تبادلہ کیا جا سکے گا، بشرط کہ متعلقہ کالج میں بجٹ بُک کے مطابق اسامی موجود ہو۔
2- ہر کالج میں ہر مضمون کے لیے کم از کم ایک استاد کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی، بشرط کہ اس مضمون میں طلباء کی داخلا موجود ہو۔
3- نئے لیکچرارز کی تقرری ان کالجوں میں کی جائے گی جہاں اس مضمون کا کوئی استاد موجود نہیں، مزید اساتذہ ان کالجوں میں تعینات کیے جائیں گے جہاں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے اس مضمون کے مزید اساتذہ کی ضرورت ہو۔
4- جن کالجز میں اساتذہ کی تعداد منظور شدہ حد سے زیادہ ہے، وہاں سے ٹیچنگ فیکلٹی کو اُن کالجوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں کالج کی ضرورت کے مطابق اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔
5- ایسے اساتذہ جو کسی کالج میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے غیر متناسب طور پر زیادہ ہیں، اُنہیں ضرورت کے مطابق دوسرے کالجوں میں منتقل کیا جائے گا، ان کالجوں سے وہ عملہ بھی منتقل کیا جاۓ گا جو مضمون کے مطابق کالج کی میں داخلا سے مختلف ہوگا۔
6- تبادلوں اور تقرریوں کے عمل میں ڈومیسائل کی کوئی پابندی نہیں ہوگی، تاہم، ابتدائی مرحلے میں اساتذہ کی تقرری ان کے ڈومیسائل کی بنیاد پر کی جائے گی تاکہ سہولت ہو، اگر کسی علاقے میں مضمون کی ضرورت نہ ہو، یا منظور شدہ اسامی نہ ہو، تو ان اساتذہ کو دوسرے اضلاع میں تعینات کیا جائے گا۔
7- نئے تعلیمی سال 26-2025 سے، صرف گرمی اور سردی کی چھٹیوں کے دوران ہی تبادلوں/ تقرریوں کی درخواستیں قبول کی جائیں گی تاکہ اکیڈمک سیشن متاثر نہ ہو، تاہم، اگر ہنگامی ضرورت، اہم وجوہات کے ساتھ تبادلہ/ تقرری ممکن ہو سکتی ہے۔
8- خواتین اساتذہ کو مرد کالجوں میں، اور مرد اساتذہ کی خواتین کالجوں میں تبادلہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، تاہم، ایسے تبادلوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور صرف ضرورت کے تحت ہی ایسا کیا جائے گا۔
یہ تمام پالیسی گائیڈ لائنز اور ضابطہ پورے سندھ میں فوراً نافذ العمل ہو گا تاکہ تعلیم، طلبہ اور عوامی مفاد میں بہتری لائی جا سکے۔
