پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے درمیان برف پگھلنے لگی، پی پی کاجےیوآئی سےرابطہ، بلاول بھٹوزرداری کی مولانا فضل الرحمان سےملاقات طےہوگئی، چیئرمین پیپلزپارٹی آج نمازجمعہ کےبعد پی ڈی ایم سربراہ سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کریں گے، سیاسی صورتحال سمیت حکومت مخالف تحریک پر تبادلہ خیال ہوگا۔ قانون سازی کے معاملے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو خط لکھ دیا، انتخابی اصلاحات بل سمیت دیگر اہم قوانین پر اتفاق رائے کےلیے کردار ادا کرنے کی اپیل، کہا اپوزیشن کو وسیع تر قومی مفاد کےلیے جامع فیصلہ سازی کےلیےآگے بڑھنا چاہیے، قانون سازی کےلیے تشکیل دی گئی متفقہ کمیٹی کے فورم کو بروئے کار لایا جائے۔ اہم معاملات پر قانون سازی اور سیاسی صورتحال کامعاملہ، وزیراعظم عمران خان نے کور کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا، 2 وزرائے اعلیٰ، گورنرز، وفاقی وزرا اور پارٹی قیادت شریک ہوگی، کورکمیٹی اتحادی جماعتوں کے تحفظات اور مطالبات کا جائزہ لے گی، مہنگائی پر قابو پانے کےلیے اقدامات سے متعلق بھی غورہوگا۔ عمران نیازی صاحب خود دھاندلی کی پیداوار ہیں، نیازی صاحب نے جہاد کرنا ہے تو ڈسکہ الیکشن کےخلاف کریں، لیگی رہنما حمزہ شہباز کہتے ہیں آج غریب کے گھر میں فاقے راج کررہے ہیں، قوم کو مہنگائی کی بھٹی میں جھونک دیا گیا، آٹا، چینی، پیٹرول اور ادویات کی قیمتوں کےخلاف جہاد کیوں نہیں کرتے، اب فیصلہ کرلیا ہے کہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر سندھ حکومت کی وجہ سے نہیں ہے، صوبائی وزیراطلاعات سعید غنی کہتے ہیں آئین کے مطابق نئی حلقہ بندیاں کرنا ضروری ہے، اسٹیٹ بینک کے معاملات میں مداخلت ہورہی ہے، نالائق حکومت کا بوجھ عوام پر پڑھ رہا ہے، پی ٹی آئی کے بہت سے ارکان اس کے ساتھ نہیں ہے، مہنگائی پورے ملک میں ہے،وفاق اور وزراسندھ حکومت پر الزامات لگاتے ہیں۔