ویب ڈیسک:خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے دو بڑے کیسز کی تحقیقات میں اہم پیشرفت کی ہے۔ بنوں کینٹ اور مولانا حامد پر ہونے والے حملوں کی تفتیش کے دوران پولیس نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ آئی جی ذوالفقار حمید نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے دہشتگردی کی ان وارداتوں کے پیچھے موجود نیٹ ورک کا کھوج لگانے میں اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دارالعلوم حقانیہ اور بنوں کینٹ حملہ، ان دونوں کیسز میں اہم شواہد ملے ہیں، دونوں واقعات سے متعلق کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار افراد میں وہ لوگ شامل ہیں جو حملوں کی منصوبہ بندی اور فنڈنگ کے لیے ذمہ دار تھے۔مزید گرفتاریوں کے بعد تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔
پولیس نے اس نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے وسیع پیمانے پر تحقیقات کی، جس میں علاقے کے مختلف حصوں میں چھاپے مارے گئے اور مختلف شہروں سے مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق اس نیٹ ورک کی گرفتاری سے دہشتگردوں کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا گیا ہے، جس سے صوبے میں مزید دہشتگرد حملوں کا خطرہ کم ہوا ہے۔
پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مزید معلومات فراہم کرنے میں تعاون کریں تاکہ اس نیٹ ورک کے باقی ارکان کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔ آئی جی خیبرپختونخوا نے اس کامیابی پر پولیس فورس کی تعریف کی اور دہشتگردی کے خلاف عزم کو مزید مضبوط کرنے کا عہد کیا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ فروری میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہوئے خود کش حملے میں جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت 6 افراد شہید ہو گئے تھے۔ جب کہ گزشتہ برس مارچ میں بنوں کینٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کے بروقت جواب کے نتیجے 16 خوارج مارے گئے تھے۔