آبنائےہرمز کی عظیم جنگی بساط پرکس کا پلڑابھاری؟

آبنائےہرمز کی عظیم جنگی بساط پرکس کا پلڑابھاری؟
کیپشن: آبنائےہرمز کی عظیم جنگی بساط پرکس کا پلڑابھاری؟

ویب ڈیسک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں آبنائے ہرمز عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑی جنگی بساط کی صورت اختیار کر گئی ہے، اور اس اہم گزرگاہ پر برتری حاصل کرنے والا ہی ممکنہ طور پر اس تنازع میں غالب فریق قرار پائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے جسے دفاعی اصطلاح میں جوابی ناکہ بندی کہا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں طویل امن مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ایسے تمام جہازوں کو روکا جائے گا جو ایران کی بندرگاہوں کی جانب جا رہے ہوں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہوں۔

یہ اقدام ایران کی اس پالیسی کا جواب سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت اس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا کر عالمی جہاز رانی کو متاثر کیا اور عالمی معیشت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پس منظر پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے جواباً اس اہم بحری راستے میں بارودی سرنگیں بچھا دیں، جس سے عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی۔

بعد ازاں ایران نے اس راستے کو جزوی طور پر بحال کیا، تاہم جہازوں کو اپنے زیرِ اثر علاقوں، خصوصاً جزائر قشم اور لارک کے قریب سے گزرنے کی ہدایت دی، جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حکمت عملی کے جواب میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ان جہازوں تک محدود ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں سے منسلک ہوں گے، جبکہ دیگر ممالک کی جہاز رانی متاثر نہیں ہوگی۔

ماہرین کے مطابق اس ناکہ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے امریکی بحریہ کو دو بڑے چیلنجز درپیش ہوں گے: بارودی سرنگوں کی صفائی اور ایرانی بندرگاہوں کی کڑی نگرانی۔ اس مقصد کے لیے خطے میں امریکی بحری قوت پہلے ہی موجود ہے، جس میں طیارہ بردار جہاز اور درجنوں جنگی طیارے شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران بھی اس صورتحال میں خاموش نہیں بیٹھا۔ اس کے پاس چھوٹی مگر مؤثر آبدوزوں، ڈرونز اور میزائلوں کی ایسی صلاحیت موجود ہے جو محدود سمندری علاقوں میں دشمن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر اس کی غدیر کلاس آبدوزیں ایسی ہی صورتحال کے لیے تیار کی گئی ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اکیسویں صدی کی ایک منفرد جنگی صورتحال ہے، جہاں ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین بحری قوت موجود ہے اور دوسری جانب ایک ایسا ملک ہے جو محدود وسائل کے باوجود اپنے ساحلی دفاع میں مہارت رکھتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس حکمت عملی کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں، جبکہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی کے ذریعے اس محاصرے کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گا۔

اب دنیا کی نظریں اس اہم سمندری مقابلے پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

Watch Live Public News