ہیروز آف پاکستان: ثمینہ فاضل کی خواتین کو بااختیار بنانے کی لازوال داستان

ہیروز آف پاکستان: ثمینہ فاضل کی خواتین کو بااختیار بنانے کی لازوال داستان
کیپشن: ہیروز آف پاکستان: ثمینہ فاضل کی خواتین کو بااختیار بنانے کی لازوال داستان

ویب ڈیسک: اسلام آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی و صدر، ثمینہ فاضل کی کامیاب کہانی۔باہمت خاتون ثمینہ فاضل فیشن ڈیزائنر اور پاکستان کی پہلی خواتین ہاکی ٹیم کی رکن بھی رہیں۔ 

ثمینہ فاضل  نے "ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ" سیریز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری سے ہی کاروبار کا شوق تھا ، فارغ وقت میں بچیوں  کیلئے  لباس بناتی تھی، یہ ہی "میشا کلیکشن" کی بنیاد بنی۔ 1989 میں پہلی گارمنٹس فیکٹری اور 1990 میں راولپنڈی و اسلام آباد کا پہلا خواتین بوتیک قائم کیا۔بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کو گھر بیٹھے روزگار دیا اور مردوں کے برابر معاوضہ فراہم  کیا۔ خواتین  کیلئے الگ چیمبر کی  جدوجہد کی اور 2009 میں لائسنس حاصل کیا۔چیمبر کے ذریعے خواتین کی تربیت، کاروباری آگاہی اور مارکیٹ تک رسائی ممکن بنائی۔

ثمینہ فاضل نے بتایا کہ پورے ملک میں نمائشیں کروا کر خواتین کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا موقع دیا۔2010 کے بعد خواتین کے وفدکو یورپ، آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں  لے کرگئی۔چیمبر کی خواتین آج پیٹرول پمپس، فارما کمپنیز اور ٹریول ایجنسیاں کامیابی سے چلا رہی ہیں۔دیہی خواتین کو براہِ راست نمائش  میں موقع دے کر مڈل مین کا کردار ختم کیا۔ملتان، سکھر اور دیگر شہروں میں سینکڑوں خواتین کو تربیت دے کر خود کفیل بنایا۔

ثمینہ فاضل کا کہنا تھاکہ میرا مشن ہے کہ خواتین کا کردار معاشی ترقی میں مزید مضبوط ہو۔پاکستان تب ہی ترقی کرے گا جب سب مل کر معیشت کو مضبوط کریں گے۔

ثمینہ فاضل کا نام خواتین کی معاشی خودمختاری کی جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔خواتین کے بااختیار مستقبل کی تعمیر میں ثمینہ فاضل کی کاوشیں ایک روشن مثال ہیں۔

Watch Live Public News