کوڈیک کا 133 سالہ سفر خطرے میں! کمپنی بند ہونے کے قریب

کوڈیک کا 133 سالہ سفر خطرے میں! کمپنی بند ہونے کے قریب

(ویب ڈیسک )تصویری مصنوعات بنانے والی 133 سال پرانی مشہور کمپنی "ایسٹ مین کوڈیک" نے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا کاروبار جاری رکھنے کے قابل نہیں رہ سکتی۔

امریکا میں جاری کردہ اپنی حالیہ آمدنی رپورٹ میں کمپنی نے انکشاف کیا کہ اس کے پاس آئندہ آنے والے 50 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نہ تو یقینی مالی تعاون موجود ہے اور نہ ہی مناسب نقدی۔

کمپنی کی فائلنگ میں کہا گیا  کہ  "یہ حالات کمپنی کے ایک جاری ادارے کے طور پر برقرار رہنے کی صلاحیت پر شدید شکوک پیدا کرتے ہیں۔"

کوڈیک کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنے ریٹائرمنٹ پنشن پلان کی ادائیگیاں روک کر نقدی اکٹھی کرے۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ درآمدی محصولات (ٹیرف) سے اس کے کاروبار پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ کیمرے، سیاہی، اور فلم سمیت اس کی کئی مصنوعات امریکا میں ہی تیار کی جاتی ہیں۔

کوڈیک کے سی ای او جم کانٹیننزا نے کہا کہ  "دوسری سہ ماہی میں کوڈیک نے ایک غیر یقینی کاروباری ماحول کے باوجود ہمارے طویل مدتی منصوبے کے خلاف پیش رفت جاری رکھی۔"

ترجمان کوڈیک نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ وہ اپنی بڑی رقم کی واجب الادا قرض کی ادائیگی مقررہ وقت سے پہلے کر دے گی، اور باقی قرض یا ترجیحی شیئرز کی ادائیگی کو دوبارہ ترتیب دے گی یا ری فنانس کر لے گی۔

منگل کو امریکی وقت کے مطابق، کوڈیک کے حصص کی قیمت میں دوپہر کے وقت 25 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

عروج و زوال:

ایسٹ مین کوڈیک کمپنی 1892 میں باضابطہ طور پر قائم ہوئی، مگر اس کی بنیاد 1879 میں رکھی گئی جب جارج ایسٹ مین نے پلیٹ کوٹنگ مشین کا پہلا پیٹنٹ حاصل کیا۔  

1888 میں ایسٹ مین نے پہلی کوڈیک کیمرہ 25 ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیا۔

اس وقت فوٹوگرافی عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں تھی کیونکہ اسے استعمال کرنے کے لیے مہارت اور خاص آلات کی ضرورت ہوتی تھی، لیکن کوڈیک کیمرہ عام لوگوں کے لیے فوٹوگرافی کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

ایسٹ مین نے نعرہ دیا  کہ "آپ بٹن دبائیں، باقی ہم کریں گے۔"  

لفظ " کوڈیک" کا کوئی خاص مطلب نہیں تھا۔ کمپنی کے مطابق ایسٹ مین نے یہ نام خود گھڑا تھا: "K حرف مجھے پسند تھا، یہ مضبوط اور توجہ حاصل کرنے والا لگتا تھا۔"

کوڈیک نے تقریباً ایک صدی تک کیمرے اور فلمیں تیار کر کے کامیابی حاصل کی۔  

1970 کی دہائی میں کوڈیک امریکہ میں 90 فیصد فلم اور 85 فیصد کیمرہ فروخت کی ذمہ دار تھی۔  

1973 میں پال سائمن کا مشہور گانا "Kodachrome" بھی ہٹ ہوا۔

لیکن کوڈیک کی یہ اجارہ داری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی — اور اس کی وجہ وہ ٹیکنالوجی بنی جو اس نے خود ایجاد کی، 1975 میں کوڈیک نے دنیا کا پہلا ڈیجیٹل کیمرہ متعارف کروایا۔

بدقسمتی سے کوڈیک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے فائدہ نہ اٹھا سکی اور 2012 میں دیوالیہ ہوگئی۔

2020 میں امریکی حکومت نے کوڈیک کو دوا سازی کا خام مال تیار کرنے کی ذمے داری دی، جس سے کمپنی کے حصص کی قیمت میں اچانک اضافہ ہوا اور ایک ہی دن میں 20 بار ٹریڈنگ رُک گئی۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں کوڈیک کو مالی نقصان ہوا، لیکن کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوا سازی کے شعبے میں اپنی سرگرمیاں بڑھائے گی۔  

فی الحال کمپنی فلمز، کیمیکلز اور دیگر اشیاء بناتی ہے، خاص طور پر فلم انڈسٹری کے لیے، اور اپنے برانڈ کا نام مختلف صارفین کی مصنوعات کے لیے لائسنس پر دیتی ہے۔

Watch Live Public News