ہبل ٹیلی اسکوپ نے سورج کی سمت آنے والا تیز ترین ایلین دم دار ستارہ کا سراغ لگا لیا

ہبل ٹیلی اسکوپ نے سورج کی سمت آنے والا تیز ترین ایلین دم دار ستارہ کا سراغ لگا لیا

(ویب ڈیسک )علی رضا: ناسا کا ہبل ٹیلی اسکوپ سورج کی جانب 36 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے بڑھتے خلائی دمدار ستارے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

ماہرین فلکیات نے ناسا کے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے ایک غیرمعمولی خلائی دمدار ستارے 3I/ATLAS کی انتہائی واضح تصویر حاصل کی ہے، جو اب تک دیکھے گئے تمام دمدار ستاروں میں سب سے تیز رفتار قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ دمدار ستارہ سب سے پہلے 1 جولائی 2025 کو ناسا کے فنڈ کردہ آٹومیٹک ٹیلیسکوپ سسٹم ATLAS نے دریافت کیا۔ یہ ایک بین النجمی (interstellar) جسم ہے، یعنی ایسا آسمانی پتھر جو کسی دوسرے ستارے کے نظام سے آیا ہے۔ اب تک دریافت ہونے والا یہ صرف تیسرا تصدیق شدہ بین النجمی جسم ہے۔

36 میل فی سیکنڈ کی رفتار

3I/ATLAS ہماری شمسی نظام میں 130,000 میل فی گھنٹہ (یعنی 209,000 کلومیٹر فی گھنٹہ) یا 36 میل فی سیکنڈ (58 کلومیٹر فی سیکنڈ) کی ناقابل یقین رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو کسی بھی شمسی نظام کے مہمان کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ رفتار ہے۔

ہبل کی جانب سے حاصل کردہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دمدار ستارے کے سورج کی جانب رخ والے حصے سے گرد و غبار خارج ہو رہا ہے جبکہ اس کا ایک دھول بھرا دم بھی پیچھے کی طرف پھیل رہا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس بےمثال رفتار کی وجہ اس کے بین النجمی سفر کے دوران پیش آنے والی بے شمارکشش ثقل ہو سکتی ہیں۔  

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس سے سائنس ٹیم کے سربراہ ڈیوڈ جیویٹ کا کہنا تھا: "یہ ایسے ہے جیسے آپ ایک گولی کو ہزارویں حصے سیکنڈ کے لیے دیکھیں — آپ کبھی صحیح طریقے سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ کہاں سے آئی تھی۔"

اب تک کا سب سے بڑا بین النجمی (Interstellar) ستارہ دریافت

حالیہ برسوں میں دریافت ہونے والے دیگر دو بین النجمی اجسام — 2017 میں ’اوومواموا (1I/’Oumuamua) اور 2019 میں بورسوف (2I/Borisov) — کے مقابلے میں یہ نیا دمدار ستارہ 3I/ATLAS کہیں زیادہ بڑا ہے، جو ماہرینِ فلکیات کو ایک نایاب موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ کسی دوسرے ستارے کے نظام سے آئے ہوئے مہمان کا مطالعہ کر سکیں۔

تاہم، اس کا مشاہدہ کرنا خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ہبل کی نئی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دمدار ستارے کا برفانی مرکز (nucleus) تقریباً 3.5 میل (5.6 کلومیٹر) جتنا بڑا ہو سکتا ہے، لیکن کچھ اندازوں کے مطابق یہ محض 1,000 فٹ (320 میٹر) تک محدود بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تفصیلات ایک نئی تحقیق میں بیان کی گئی ہیں جو حال ہی میں arXiv پر شائع ہوئی ہے (یہ تحقیقی پلیٹ فارم ابھی peer-review مرحلے سے نہیں گزرا)، اور جلد The Astrophysical Journal Letters میں شائع کی جائے گی۔

دیگر بڑے فلکیاتی آلات جیسے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ، TESS، نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری، اور ڈبلیو ایم کیک آبزرویٹری بھی اس جسم کا واضح مشاہدہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

Hubble captured this image of the interstellar comet 3I/ATLAS on July 21, 2025

3I/ATLAS آیا کہاں سے؟

اس دمدار ستارے کی تیز رفتار مشاہدے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ماہر فلکیات جیویٹ کے مطابق "کوئی نہیں جانتا کہ یہ دمدار ستارہ کہاں سے آیا ہے۔ یہ نیا بین النجمی سیاح دراصل ایسے اجسام کی ایک پوشیدہ آبادی کا حصہ ہو سکتا ہے، جو اب منظرِ عام پر آنا شروع ہوئی ہے۔"

3I/ATLAS کی دریافت جدید فلکیاتی اسکائی سروے صلاحیتوں کے باعث ممکن ہوئی، اور یہ عمل مستقبل میں مزید بہتر ہونے والا ہے جب ویرا سی روبن آبزرویٹری (Vera C. Rubin Observatory) باقاعدہ طور پر کام شروع کرے گی۔ 

یہ نیا آبزرویٹری نظام نہ صرف 3I/ATLAS کو شناخت کر چکا ہے بلکہ ایک نئے ماڈل کے مطابق، اپنے 10 سالہ مشن کے دوران مزید 50 تک بین النجمی اجسام کی دریافت کر سکتا ہے۔

جیویٹ کا کہنا تھا کہ  "ہم نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔"

زمین کو خطرہ 

3I/ATLAS زمین کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں ہے — درحقیقت، یہ سورج کے اس جانب سے گزر رہا ہے جو زمین کے موجودہ مقام کے مخالف سمت میں ہے۔ یہ دمدار ستارہ اکتوبر میں سورج کے سب سے قریب آئے گا، لیکن اُس وقت یہ سورج کے پیچھے ہوگا اور زمین سے دیکھنے پر سورج کی چمک میں اوجھل ہو جائے گا۔ البتہ یہ مریخ کے نسبتاً قریب سے گزرے گا۔

یہ دمدار ستارہ ستمبر تک زمینی دوربینوں سے دیکھا جا سکے گا، لیکن پھر یہ سورج کے بہت قریب آ جانے کے باعث نظروں سے غائب ہو جائے گا۔ تاہم، توقع ہے کہ دسمبر کے اوائل میں جب یہ نظامِ شمسی کے اندرونی حصے سے باہر نکلے گا تو دوبارہ دکھائی دینا شروع ہو جائے گا۔

Watch Live Public News

کونٹینٹ پروڈیوسر