امریکاکا یوٹرن،ٹرمپ کاپیوٹن کو فون،یوکرین جنگ پرمذاکرات کی دعوت

امریکاکا یوٹرن،ٹرمپ کاپیوٹن کو فون،یوکرین جنگ پرمذاکرات کی دعوت
کیپشن: امریکاکا یوٹرن،ٹرمپ کاپیوٹن کو فون،یوکرین جنگ پرمذاکرات کی دعوت

ویب ڈیسک: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز یوکرین کے بارے میں تین سال سے جاری امریکی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نےجنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیشرفت روس کی جانب سے امریکی ٹیچر مارک فوگل کی رہا ئی کے بعد عمل میں آئی ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین کے اندر  ایک خوفناک جنگ کے خاتمے کی جانب درست سمت میں آگے بڑھنے کی علامت قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے اور پیوٹن نے فون پر طویل بات چیت کی جس میں انہوں نے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے " مل کر کام کرنے" کا عزم کیا ہے اور شاید وہ ذاتی طور پر ایک دوسرے کے ممالک میں ملاقات کریں گے۔"

یہ واضح نہیں تھا کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی اس میں کس طرح کی شمولیت ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز ان کے ساتھ بھی فون پر گفتگو کی تھی اور یوکرین کے ایک صدارتی مشیر دیمیٹرو لیٹوین نےاسے "مثبت بات چیت" سے تعبیر کیا ہے۔

ٹرمپ، پیوٹن ملاقات سعودی عرب میں ہوگی:

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے سعودی عرب میں ملاقات کریں گے۔
عرب نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ملاقات کے حوالے سے یہ اعلان روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ٹیلی فون پر 90 منٹ کی گفتگو کے بعد کیا جس میں انہوں 3 سال سے جاری یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے دفتر میں صحافیوں کو بتایا کہ ’بالآخر ہماری ملاقات کا امکان ہے۔ بلکہ ہماری یہ توقع ہے کہ وہ یہاں آئیں گے اور میں وہاں جاؤں گا، اور شاید پہلی مرتبہ ہم سعودی عرب میں ملاقات کریں۔ ہم سعودی عرب میں ملیں گے اور دیکھتے ہیں اگر کچھ طے پا جائے۔‘
صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حوالے سے کہا کہ ’ہم ولی عہد کو جانتے ہیں اور میرے خیال میں ملاقات کے لیے یہ بہت اچھا مقام ہوگا۔‘
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ملاقات کی تاریخ فی الحال طے نہیں پائی لیکن ملاقات ہو گی اور ’مستقبل میں زیادہ دیر سے نہیں ہو گی۔‘

نیٹو کے اجلاس میں یوکرین کےلیے امریکی پالیسی کا خاکہ

اس سے قبل امریکا کے نئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز کہا کہ واشنگٹن روس کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے تحت یوکرین میں اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیف کے روس کے قبضے میں جانے والی اپنی زمین کو دوبارہ حاصل کرنا یا نیٹو میں شامل ہونا حقیقت پسندانہ مقاصد نہیں ہیں۔

برسلز میں یوکرین کے حامیوں کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ہیگستھ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو یوکرین کے لیے اپنی حمایت اور اپنے دفاعی اخراجات، دونوں میں اضافہ کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہو کہ کسی بھی حفاظتی ضمانت کے حصے کے طور پر، یوکرین میں امریکی فوجیوں کو تعینات نہیں کیا جائے گا۔

اگرچہ ابھی تک کوئی امن بات چیت طے نہیں ہے لیکن امریکی وزیر دفاع نے نیٹو کے اجلاس میں کہا کہ کوئی بھی امن عمل ، یہ بات تسلیم کرتے ہوئے شروع کرنا چاہیے کہ یوکرین کی 2014 سے پہلے کی سرحدوں پر واپسی ایک غیر حقیقی مقصد ہے۔ تاہم یورپ کی طرح واشنگٹن بھی ایک خودمختار اور خوش حال یوکرین کا حامی ہے۔

کیف ایک طویل عرصے سے نیٹو کی رکنیت حاصل کرنے کا خواہش مند ہے اور نیٹو ارکان بھی اس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن روس کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ رہا۔

ہیگستھ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اس چیز پر یقین نہیں رکھتا کہ کسی مذاکراتی سمجھوتے کا حقیقت پسندانہ نتیجہ یوکرین کے لیے نیٹو کی رکنیت ہو۔

ٹرمپ نیٹو ارکان سے اپنے دفاعی اخراجات کا ہدف دو گنا کرنے کا مطالبہ کرنے کے ساتھ یوکرین جنگ ختم کرانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں جس کے بعد واشنگٹن کے اتحادی ٹرمپ انتظامیہ کی اس بارے میں وضاحت کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

ہیگستھ کا کہنا تھا کہ نیٹو کے ارکان کو اپنے دفاعی اخراجات کو اپنی قومی معیشتوں کے 5 فی صد تک بڑھانا چاہیے جب کہ اس وقت تک نیٹو کا کوئی بھی رکن اپنے دفاع پر اتنے فنڈز مختص نہیں کر رہا۔

ہیگستھ کے برسلز میں دو روزہ مذاکرات اعلیٰ امریکی عہدے داروں کے یورپی دورہ کا حصہ ہیں جس کا اختتام جمعے کے روز میونخ میں ہونے والی سیکیورٹی کانفرنس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات پر ہو گا۔

یوکرین کی حمایت اور یورپ کے اپنے دفاعی اخراجات ، دونوں کے بارے میں پینٹاگان کے سربراہ نے یہ واضح پیغام دیا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں سے مزید کچھ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔

ہیگستھ نے کہا کہ یورپ کی سلامتی کا تحفظ لازمی طور پر نیٹو کے یورپی ارکان کو کرنا چاہیے اور مستقبل میں یوکرین کی ہتھیاروں اور دوسری امداد کا بڑا حصہ یورپ کو فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن ٹرانس اٹلانٹک اتحاد میں اس بوجھ کو جسے وہ غیر متوازن سمجھتا ہے، قبول نہیں کرے گا۔

امریکی وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نیٹو اتحاد اور یورپ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کے لیے پرعزم ہے، لیکن واشنگٹن ایسے غیر متوازن تعلقات کو مزید برداشت نہیں کرے گا جو انحصار کرنے کو تقویت دیتے ہیں۔

دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا ان کی صدر ٹرمپ سے ’دیر پا اور قابلِ بھروسہ امن‘ کے قیام کے بارے میں بات ہوئی ہے۔

زیلنسکی کا کہنا ہے کہ میونخ میں یوکرین پر ہونے والی دفاعی کانفرنس کے دوران جمعے کے روز ان کی امریکی نائب صدر جے ڈی ونس سے ملاقات متوقع ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے روسی اور یوکرینی ہم منصب سے رابطے سے قبل امریکی صدر اور وزیرِ دفاع کا بیان سامنے آیا تھا کہ جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت مشکل ہے۔

ٹرمپ نے پیوٹن کو سیاسی تنہائی سے واپسی کا راستہ فراہم کیا ہے‘: سٹیو روزنبرگ کا تجزیہ

تجزیہ کار نے مزید کہا ہے کہ ایک فون کال سے یوکرین کی جنگ ختم نہیں ہونے والی۔مذاکرات کا شاید آغاز ہو جائے۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مذاکرات کب مکمل ہوں گے۔لیکن یہ ٹیلیفونک رابطہ ولادیمیر پوتن کے لیے ایک طرح کی جیت ہے۔

تقریباً تین سال سے وہ ایک طرح کی سیاسی تنہائی کا شکار تھے۔ پیوٹن کے یوکرین پر باقاعدہ حملے کے فیصلے نے انھیں ایک طرح سے سیاسی اچھوت بنا دیا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف ایک قراداد منظور کی تھی۔ روس پر لاتعداد بین القوامی پابندیاں لگائی گئیں۔ اس کے بعد انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے ولادیمیر پیوٹن کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا۔

اس وقت کے امریکی صدر جو بائیڈن نے کھلے الفاظوں میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی نظر میں روسی صدر  ایک ’قاتل آمر‘ اور ’غنڈے‘ ہیں۔

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد جو بائیڈن اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان کوئی ٹیلیفونک رابطہ نہیں ہوا۔

اس کے بعد2025 آتا ہے۔ نئے امریکی صدر کی اوول آفس میں آمد کے ساتھ ہی امریکا کے روس کی جانب رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیں گے۔ انھیں امید ہے کہ وہ دونوں ’ایک دوسرے کے ملک کا دورہ‘ کریں گے۔ پیوٹن کو بھی شاید ایسا ہی لگتا ہے اور انھوں نے بھی صدر ٹرمپ کو ماسکو کے دورے کی دعوت دی ہے۔

اگر ٹرمپ ماسکو کا دورہ کرتے ہیں تو یہ امریکا اور روس کے تعلقات میں ایک نیا موڑ سمجھا جائے گا۔ تقریباً ایک دہائِی سے کسی امریکی صدر نے روس کا دورہ نہیں کیا ہے۔

دیکھا جائے تو ایک طرح سے پیوٹن وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو انھیں چاہیے تھا – یوکرین کے معاملے پر امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ ان کے لیے بین الاقومی سیاست میں واپسی کا ایک بہترین موقع ہے۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ پوتن کس حد تک سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن وہ اس کے لیے ہمیشہ پیوٹن کے جون 2024 کے منصوبے کا حوالہ دیتے ہیں۔

اس منصوبے کے تحت روس ان تمام علاقوں کے علاوہ جن پر وہ قابض ہے یوکرین کے کنٹرول میں موجود مزید کئی علاقے بھی اپنی سرحد میں شامل کرے گا۔

اس کے علاوہ یوکرین نیٹو میں شمولیت بھی اختیار نہیں کر پائے گا اور روس پر عائد مغربی پابندیاں بھی اٹھا لی جائیں گی۔

جیسا کہ رواں ہفتے ایک روسی اخبار نے لکھا ہے ’ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی شرائط پر۔‘

Watch Live Public News