ضلع کرم کے علاقوں میں مورچوں کی مسماری کا عمل شروع

ضلع کرم کے علاقوں میں مورچوں کی مسماری کا عمل شروع

ویب ڈیسک: ضلع کرم کے علاقوں بالشخیل اور خارکلے میں مورچوں کی مسماری کا عمل شروع ہو چکا ہے، سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھاری تعداد میں فوجی نفری تعینات کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایپکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ضلعے میں فریقین کی جانب سے بنائے گئے بنکرز (مورچے) مسمار کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، لوئر کرم کے اسسٹنٹ کمشنر حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ ضلعے میں بالشخیل اور خار کلے علاقوں میں ایک ایک مورچہ مسمار کر دیا گیا ہے۔ 

 
بنکرز کی مسماری کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 11 جنوری کو متعلقہ محکموں کو مسماری کے لیے مراسلہ جاری کیا گیا تھا اور اس حکم پر پیر (13 جنوری)  سے آغاز کر دیا گیا،سب سے پہلے لوئر کرم کے علاقوں بالشخیل اور خار کلے میں مورچوں کی مسماری کا آغاز کیا گیا۔ 

مورچوں کی مسماری کے کچھ غیر مصدقہ فوٹیجز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مورچوں کو بارودی مواد سے اڑایا جا رہا ہے اور سکیورٹی اہلکار موقع پر نظر بھی آرہے ہیں، اس عمل کی نگرانی ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے۔ 

ضلع کرم میں دو فریقین کے مابین جاری تنازعہ تب شدت اختیار کر گیا تھا، جب 21 نومبر 2024 کو لوئر کرم کے علاقے اوچت میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 42 افراد جان سے گئے تھے۔ 

اس کے بعد مشتعل مسلح مظاہرین نے لوئر کرم کے علاقے بگن کے مرکزی بازار اور قریبی گاؤں میں سینکڑوں گھر جلا دیے تھے۔

کشیدگی کے بعد حکومتی جرگہ تشکیل دے دیا گیا اور تین جنوری کو فریقین کے مابین ایک امن معاہدہ ہوا، جب کہ صوبائی ایپکس کمیٹی میں بھی کرم کے حوالے سے فیصلے کیے گئے تھے۔

 اس کے علاوہ، دو شیلنگ ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں موجود ہیں، جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

Watch Live Public News