ویب ڈیسک:ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ 2025 میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ ایرانی مسلح افواج کے لیے ایک غیر معمولی اور منفرد تجربہ ثابت ہوئی۔
ان کے مطابق ایران وہ واحد ملک ہے جس نے مغربی ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی حمایت سے لیس اسرائیل کے ساتھ اس سطح پر براہِ راست محاذ آرائی کی۔
ایرانی آرمی چیف نے بتایا کہ جنگ کے بعد گزشتہ 6 ماہ کے دوران کی گئی عسکری تیاریوں کے نتیجے میں ایران کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے درپیش خطرات کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت حاصل ہو چکی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے عوام کو مدد پہنچنے والی ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ایران کے عوام احتجاج جاری رکھیں اور اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھالیں۔
انہوں نے مظاہرین کے قتل اور تشدد میں ملوث افراد کے نام محفوظ رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیاکہ جب تک مظاہرین کے بے مقصد قتل کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، وہ ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر رہے ہیں۔