ویب ڈیسک:اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے دوسرے سال میں پاکستان کی معیشت میں شفافیت، مؤثر ٹیکس نظام اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کرپشن و اسمگلنگ کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیمنٹ، تمباکو، کھاد اور چینی کی صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے ٹیکس نیٹ کو وسعت اور نگرانی کو مؤثر بنایا گیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے رواں مالی سال کے دوران 8.45 ٹریلین روپے کا ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہے۔ صرف مارچ میں 1.114 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولی کی گئی، جو گزشتہ سال کے 841 ارب روپے سے کہیں زیادہ ہے۔
زیرو ٹالرنس پالیسی کے عملی نفاذ سے ریونیو میں تسلسل سے اضافہ ہوا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
انسداد اسمگلنگ مہم کے دوران 23 ملین لیٹر ایرانی تیل، 10,447 میٹرک ٹن کھاد اور 3,547 ٹن گندم و آٹا ضبط کیا گیا۔ ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیوں میں ہزاروں میٹرک ٹن کھاد، گھی اور چینی بھی برآمد کی گئی۔
ایس آئی ایف سی کی فعال سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت اب شفافیت، مضبوط نگرانی اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔