بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی،150 ڈرونز داغ دیے

بھارتی افواج کی میانمار میں کارروائی،150 ڈرونز داغ دیے
کیپشن: بھارتی جارحیت کی نئی حد، میانمار پر 150 ڈرون حملے

ویب ڈیسک: 13 جولائی کی صبح بھارتی افواج نے میانمار کے سگانگ ریجن میں یو ایل ایف اے (I) کے مبینہ کیمپس پر 150 اسرائیلی ساختہ ڈرونز سے حملے کیے، جسے بھارتی میڈیا نے آپریشن کا حصہ قرار دیا۔

بھارت نے میانمار کی خودمختاری کو بری طرح پامال کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی،مودی کی توسیع پسندانہ سوچ میانمار تک جا پہنچی، ایک آزاد ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بمباری کی گئی۔

انڈین میڈیا کا کہناہےکہ  13 جولائی کی صبح بھارتی افواج نے میانمار کے سگانگ ریجن میں یو ایل ایف اے (I) کے مبینہ کیمپس پر 150 اسرائیلی ساختہ ڈرونز سے حملے کیے، جسے بھارتی میڈیا نے آپریشن کا حصہ قرار دیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ’’حملوں میں سگانگ ریجن جہاں یو ایل ایف اے (آئی) کا مشرقی کمانڈ ہیڈکوارٹر قائم تھا، نشانہ بنایا گیا،یو ایل ایف اے کا اہم کمانڈر نین آسوم سمیت متعدد افراد ان حملوں میں ہلاک ہوگیا۔

ذرائع کا کہناہےکہ بھارتی وزارت دفاع اس حملے سے لاعلمی کا اظہار کر رہی ہے جو ایک بڑا تضاد ہے، میانمار پر ڈرونز حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ چارٹر کی صریحا خلاف ورزی ہے،یہ کارروائی ایسے وقت پر کی گئی جب بھارت میں "آپریشن سندور" کے نتائج پر تنقید کی جا رہی ہے، بھارتی حکومت اپنی فوج کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کر رہی ہے، جو عسکری اداروں میں مایوسی کا باعث ہے۔

ذرائع کا کہناہےکہ میانمار پر یہ حملہ بھارت کی اندرونی عسکری ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے، میانمار پر ڈرون حملہ اجیت دوول کی نگرانی میں خفیہ آپریشن تھا جس سے وزارت دفاع لا تعلقی کا اظہار کر رہی ہے۔ میانمار پر حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں ایک علاقائی اجارہ دار  کے طور پر ابھرنا چاہتا ہے، بھارت پہلے ہی نیپال، پاکستان، چین، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات رکھتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی جنگی جنون خطے کے امن اور ترقیاتی کوششوں میں رکاوٹ بنتا جا رہا ہے، میانمار پر حملہ بھارت کی ہندوتوا پالیسیوں، جارحانہ عزائم اور سیاسی تشہیر کے حربوں کا تسلسل ہے،عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کا فوری نوٹس لے،اگر بھارت کو اس طرز پر کارروائیاں کرنے سے نہ روکا گیا تو جنوبی ایشیا کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Watch Live Public News