ملزمان کا گواہوں کے بیانات پر جرح کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا، جسٹس طارق سلیم شیخ

ملزمان کا گواہوں کے بیانات پر جرح کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا، جسٹس طارق سلیم شیخ
کیپشن: ملزمان کا گواہوں کے بیانات پر جرح کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا، جسٹس طارق سلیم شیخ

ویب ڈیسک: ملزمان کا گواہوں کے بیانات پر جرح کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا جسٹس طارق سلیم شیخ نے فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس طارق سلیم شیخ نے رانا عامر اعجاز کی درخواست پر گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ۔

عدالت نے فراڈ کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزمان کا جرح کا حق ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ملزمان کو گواہوں کے بیانات پر جرح کرنے کا آخری موقع دینے کا حکم دے دیا۔اگر ملزمان پھر جرح نہ کریں تو ٹرائل کورٹ خود ڈیفنس کونسل مقرر کر کے جرح کروائے ۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اس سب کے باوجود کسی ملزم کو عدالتی نظام سے کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔اگر کوئی ملزم جان بوجھ کر جرح کےلیے وکیل پیش نہ کرے تو عدالت کو خود ڈیفنس کونسل مقرر کرنا چاہیے۔

ٹرائل کورٹ نے 2023 میں فراڈ کے مقدمے میں درخواست گزار سمیت نو ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔ ٹرائل کورٹ کے فرد جرم کے بعد گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔درخواست گزار نے متعدد مواقع ملنے کے باوجود گواہوں کے بیانات جرح نہیں کی۔ گواہوں کو ہر پیشی پر اسلام آباد سے آنا پڑتا تھا ۔ ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا جرح کا حق ختم کردیا۔ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ کیا ٹرائل کورٹ کا ملزم کا جرح کا حق ختم کرنے کا فیصلہ قانونی تھا۔انصاف کے نظام میں گواہوں کا بیانات کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کے برقرار رکھنے کے لیے عام طور پر ٹرائل کورٹ ملزمان پر جرمانے عائد نہیں کرتیں ۔انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین بھی جرح کو بنیادی حق تصور کرتے ہیں ۔بہت سے ممالک کے لیگل سسٹم میں کارروائی مکمل کرنے کے لیے حق جرح کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔پاکستان کی عدالتیں بھی تسلیم کرتی ہیں کہ ملزم کا گواہوں کے بیان پر جرح بنیادی حق ہے ۔

Watch Live Public News