(ویب ڈیسک ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریسٹورنٹس یا کیفےکے اندرونی حصے میں سگریٹ نوشی یا شیشہ پینے پر بھی پابندی عائد کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عوامی مقامات پر سیگریٹ نوشی سے متعلق عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد اور اس کے لیے طریقہ کار طے کرنے کی درخواست پر حکم نامہ جاری کردیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے احکامات جاری کیے ۔درخواست گزار کی جانب سے قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیشہ کیفوں پر کسی بھی بچے یا 18 سال سے کم عمر فرد کو تمباکو یا شیشہ فراہم کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ عدالت نے ریسٹورنٹس یا کیفےکے اندرونی حصے میں سگریٹ نوشی یا شیشہ پینے پر بھی پابندی عائد کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام ریسٹورنٹس اور کیفے مالکان کو آگ سے حفاظت اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کردی۔
عدالت نے حکم نامہ میں کہا کہ حکم نامہ کی کاپی چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور انسپکٹر جنرل پولیس کو بھیجی جائے اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز اپنے متعلقہ علاقوں میں آرڈر پر عمل درآمد کریں، درخواست گزار کوکھلی جگہ پر شیشہ یا تمباکو مصنوعات پیش کرنے کی اجازت ہے لیکن اسکے لیے اسسٹنٹ کمشنر سے ایک خاص تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔
حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ریستوران یا کیفے کے اندرونی حصے میں سگریٹ نوشی، تمباکو مصنوعات کا استعمال یا شیشہ پینے کی اجازت نہیں ، ریستوران یا کیفے کے خلاف کوئی شکایت موصول ہوتی ہے تو متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کسی بھی وقت معائنہ کرنے مزید شرائط لگانے یا انکوائری شروع کرکے قانونی کارروائی کرنے کا اختیار ہوگا۔
بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 23 جون 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔