پیوٹن نے 30 روزہ جنگ بندی پر مشروط رضا مندی کا عندیہ دیدیا

پیوٹن نے 30 روزہ جنگ بندی پر مشروط رضا مندی کا عندیہ دیدیا

ویب ڈیسک:ماسکو میں ایک بیان کے دوران پیوٹن نے عندیہ دیا کہ وہ جنگ بندی کے امکان کو دیکھ رہے ہیں, یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔
پیوٹن کے مطابق روس ایک ایسے معاہدے کا خواہاں ہے جو اس کے سکیورٹی خدشات کو بھی مدنظر رکھے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن اس شرط پر کہ یہ ایک پائیدار امن فراہم کرے اور جنگ کے بنیادی اسباب کو حل کرے۔

پیوٹن کے مطابق، عارضی جنگ بندی قابل قبول نہیں ہوگی، روس ایسے معاہدے کی حمایت کرے گا جو اس کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرے۔

روسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایسی جنگ بندی چاہتے ہیں جو طویل مدتی امن کی ضمانت دے، نہ کہ صرف ایک عارضی وقفہ ہو۔
قبل ازیں روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ صرف یوکرین کی فوج کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے گی، اور کچھ نہیں"، ماسکو اس طرح کے عارضی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔

Watch Live Public News