ویب ڈیسک: پاکستان کے سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو جیل میں تقریباً دو سال ہونے والے ہیں، اُن کی رہائی کے اسٹیبلسمنٹ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا، اب سابق وزیراعظم کے بیٹے سامنے آئے ہیں جن کا کہنا تھا کہ ’ہمارے والد ایک اصول پسند آدمی ہیں، ان کا ایمان بہت مضبوط ہے، ان کو سزائے موت کی دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔ ہم ان کی رہائی کے لیے بین الاقوامی برادری خصوصا ٹرمپ سے اپیل کریں گے۔
عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ ہمارے والد کو 2 سال سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، کاش ہم اپنے والد سے فون پر گفتگو کر سکتے، عدالت نے ہر ہفتے بات کروانے کا حکم دیا ہے لیکن 2،2 مہینوں تک ہماری بات نہیں کروائی جاتی۔
قاسم اور سلیمان نے کہاکہ والد نے ہمیں خاموش رہنے کو کہا ہے لیکن اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، ہم نے سوچا تھا کہ یہ چند ہفتے کے لیے ہوگا، اب تو 2 سال ہو گئے، اُنہوں نے عمران خان کو دھندلانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ 1992 کے ورلڈ کپ کی تصاویر کو بھی مٹا دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری جب والد سے بات کرائی جاتی ہے تو لائن 20 منٹ پر کٹ جاتی ہے، آدھا وقت وہ ہمیں نصیحتیں کرتے ہیں، باقی ہماری زندگیوں کے بارے میں پوچھتے ہیں، وہ اُنہیں توڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ ڈیل نہیں کریں گے۔
قاسم اور سلیمان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے والد 70 سال کی عمر کے ہیں، اُنہیں گولی مار دی گئی، علاج کےلیے ڈاکٹر بھی نہیں دیا گیا، یہ انصاف نہیں، اذیت ہے، آج وہ سزائے موت کے قیدیوں کے لیے بنائے گئے سیل میں ہیں، جہاں نہ روشنی ہے، نہ وکیل اور نہ ہی ڈاکٹر کو رسائی ہے۔
سلیمان خان نے مزید کہاکہ جمہوریت پر دباؤ اور الیکشن میں دھاندلی کے خلاف بڑا احتجاج ریکارڈ کروانے کے بعد جیل میں عمران خان پر سزا کے طور پر مزید سختیاں بڑھا دی گئیں۔ ہمارے والد کرپٹ نہیں اور یہ بات میرے خیال سے اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے۔
عمران خان کے بیٹوں نے کہاکہ ہماری 2 ہفتے قبل والد سے بات ہوئی۔ کئی بار صبح 4 بجے میسج آتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد بات ہوگی اور ہم 6،6 گھنٹے انتظار کرتے ہیں، ہمیں کئی میٹنگز کیسنل کرنا پڑتی ہیں کہ اس دوران کال آ گئی تو مس نہ ہو جائے۔ انہوں نے شکوہ کیاکہ کال کا وقت مقرر نہیں ہے، بے ترتیبی سے بات کرائی جاتی ہے، اور اس کا مقصد پریشان کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج باضابطہ انٹرویو دینے کی وجہ یہ ہے کہ حالات کافی مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں اور ہمارے والد کو سزائے موت کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ہمارے والد کو معلوم ہے کہ ہم یہ انٹرویو دے رہے ہیں، ہم نے ان سے اجازت لی تھی۔
قاسم خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کے لیے ہم ہر کوشش کریں گے، ہم بین الاقوامی برادری اور خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اپیل کریں گے۔