ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈیل کے امکانات تاحال برقرار ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایران کی جانب سے ایسے افراد کی کال موصول ہوئی ہے جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی نمائندے اس عمل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور بات چیت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کی جانب سے یہ رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسائل کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
واشنگٹن سے رپورٹ کرتے ہوئے صحافی جان ہولمین کے مطابق صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں بھی کہا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے۔
اس مؤقف کی تائید جے ڈی وینس نے بھی کی، جنہوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس سلسلے میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر طویل المدتی پابندی کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے اس مدت کو کم کرنے کی پیشکش کی، تاہم یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات جاری ہیں، جہاں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ ماضی میں جہاں دونوں فریق سخت مؤقف اپنائے ہوئے تھے، وہیں اب صورتحال میں کچھ لچک دیکھنے میں آ رہی ہے۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے کے لیے فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم افزودگی کو روکنے کے لیے مؤثر نظام کے قیام سے متعلق امریکی مطالبات پر جزوی پیش رفت ہوئی ہے۔
ان کے مطابق ایرانی فریق کچھ حد تک امریکی مؤقف کے قریب آیا ہے، تاہم کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار ہوگی۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو ایک معمول کے ملک کی طرح دیکھا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک مستحکم اقت