ویب ڈیسک: اٹلی کے جزیرے لامپیدوسا کے قریب پیش آنے والے ایک المناک بحری حادثے میں 26 تارکینِ وطن ہلاک ہو گئے، جبکہ 60 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق کشتی میں تقریباً 100 افراد سوار تھے جو لیبیا سے یورپ کی جانب سفر کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد سمندر میں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
اطالوی کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ کشتی لامپیدوسا کے ساحل کے قریب حادثے کا شکار ہوئی۔ کشتی کے الٹنے سے متعدد مسافر سمندر میں جا گرے، جن میں سے کچھ کو فوری طور پر نکال لیا گیا جبکہ باقی کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کی وجوہات کے بارے میں ابتدائی طور پر خراب موسم اور کشتی کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ترجمان فلیپو اونگارو نے اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ ایک اور سنگین یاد دہانی ہے کہ تارکینِ وطن کا بحیرۂ روم کے ذریعے سفر کس قدر خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الٹنے کے بعد کچھ افراد سمندر میں لاپتا ہو گئے ہیں، اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق زندہ بچ جانے والے 60 افراد کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی اور انہیں لامپیدوسا میں قائم ایک عارضی رہائشی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس حادثے کو ایک بڑے انسانی المیے کے طور پر دیکھ رہی ہیں اور یورپی و افریقی ممالک پر زور دے رہی ہیں کہ وہ تارکینِ وطن کے محفوظ اور قانونی راستوں کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔