آرمی راکٹ فورس کمانڈکیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گی؟

آرمی راکٹ فورس کمانڈکیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گی؟
کیپشن: آرمی راکٹ فورس کمانڈکیا ہے اور یہ کیسے کام کرے گی؟

ویب ڈیسک: پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور راکٹ و میزائل سسٹمز کے کامیاب تجربات کے بعد ایک نئی ’’ آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ فورس ہنگامی حالات میں تیز اور مؤثر کارروائی کے لیے چین کے ماڈل پر تشکیل دی گئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جشنِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورس جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو گی اور پاکستان کی جنگی صلاحیت میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گی۔

جوہری پالیسی کی ماہر ڈاکٹر رابعہ اختر کے مطابق آرمی راکٹ فورس کمانڈ چھوٹے توپ خانے اور بڑے ایٹمی میزائلز کے درمیان موجود خلا کو ختم کرے گی۔ اس فورس کے قیام سے روایتی میزائلز، راکٹس اور لانچ سسٹمز ایک ہی کمانڈ کے ماتحت ہوں گے، جس سے فیصلہ سازی تیز اور ہدف پر حملے زیادہ درست ہوں گے۔

پاکستان نے اسی موقع پر ’’فتح فور‘‘ کروز میزائل بھی پیش کیا، جو 750 کلومیٹر تک مار کرنے، 330 کلو گرام تک دھماکہ خیز مواد لے جانے اور صرف 5 میٹر کی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کر سکتا ہے، جس سے دشمن کے ریڈار سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھارت کے فضائی اڈوں، کمانڈ سینٹرز اور فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جبکہ جوہری ہتھیار صرف روک تھام کے لیے رکھے جائیں گے۔ اس فورس کا ڈھانچہ ممکنہ طور پر چین کی پیپلز لبریشن آرمی راکٹ فورس (PLARF) سے متاثر ہوگا اور اس کی قیادت کور لیول کے کمانڈر کے پاس ہوگی، جو براہِ راست آرمی چیف کو رپورٹ کرے گا۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پاکستان کی روایتی (غیر ایٹمی) صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور دشمن کے لیے طویل فاصلے سے کیے جانے والے حملوں کے خطرے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

Watch Live Public News