فیض حمید کی وجہ سے ملکی اداروں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے: عمران اسماعیل

فیض حمید کی وجہ سے ملکی اداروں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے: عمران اسماعیل

ویب ڈیسک: عمران اسماعیل اور محمود مولوی کی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس ، کہا آج تک ہم سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہو سکی، کون سی جماعت میں جمہوریت ہے ، ہم آج تک ڈکٹیٹر شپ کو برا بھلا کہتے رہے ہیں، آج تک جمہوریت کی طرف جا رہے ہیں اور نہ آمریت کی طرف ، سیاست دان یہ فیصلہ کر لیں کہ انہیں جمہوریت چاہیے یا آمریت چاہیے ۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں جو سیاسی صورتحال ہے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہو جانا چاہیے ، آرمی نے جو اپنا احتساب کیا یہ بہت اچھی بات ہے ، فیلڈ مارشل نے جو اقدام اٹھایا اس سے یہ میسج گیا ہے کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے ، فیض حمید نے پاکستان تحریک  انصاف سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے ۔

فیض حمید نے اداروں کو نقصان پہنچایا،فیض یاب ہونے والوں کے لیے اچھی خبر نہیں ہے ، اب وقت ہے کہ تمام لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے اور بلا تفریق ہونا چاہیے ، فیض حمید کی وجہ سے ملکی اداروں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے ۔

ہمارے ملک کی آزادی بہت زیادہ ہے وقت کی ضرورت ہے کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہونے چاہیے ، ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہو چکا ہے کہ مسائل کا حل نکالا جائے ، اب عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک کے اندر ایڈمنسٹریٹو یونٹ قائم کیے جانے چاہیے۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی آرمی افسر کو 14 سال قید بامشقت ہوئی ، ایک پاور فل جنرل کو سزا دے کر یہ پیغام دیا گیا کہ اپ پاکستان کو ایک سمت دینی ہے ، احتساب کی بات ہوتی ہمیشہ سنا لیکن اب دیکھ بھی لیا ہے ۔

تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کر کے بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے ، ہمیں اپنا رویہ تبدیل کر کے سب سے بات کرنا ہوگی ، پی ٹی آئی نے 22 سال جدوجہد کی،پی ٹی آئی جس حالات سے گزر رہی ہے یہ معمولی نہیں ہیں ، پاکستان تحریک انصاف کے پاس کوئی سیاسی حکمت عملی اس وقت موجود نہیں ہے ۔

عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بھاری ہاتھ ہے اور ہندوستان اس ہاتھ کے نیچے ہے ، بڑے عرصے کے بعد ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی دنیا میں سر اٹھا کر چل رہے ہیں ، ہرے پاسپورٹ کی عزت کا ایک خواب تھا جو اب مکمل ہو چکا ہے ، پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے،سیاسی گرما گرمی کو کم کرنا ہوگا ۔ 

جو لوگ ان سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں وہ بھی تیار ہو جائیں ان کا بھی احتساب ہوگا ، عادل راجہ جیسے لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر پروپیگنڈا کر رہے ہیں ، ایسے لوگوں کو نہ کسی سیاسی جماعت سے اور نہ ہی ملک سے پیار ہے ، جو پاکستان کے خلاف مہم چلا رہی ہیں ان کو کسی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔

پی ٹی آئی کو اپنا سوشل میڈیا کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا ، پی ٹی آئی کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ملک کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے ، پی ٹی آئی اپنی سیاسی جنگ سیاسی دائرے میں رہ کر لڑے۔

پریس کانفرنس کے دوران مولوی محمود کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر کرپشن کو اب اختتام تک پہنچانا ہوگا ، بہت سی سیاسی جماعتی مختلف ایشوز پر ایک پلیٹ فارم پر موجود نہیں ہیں ، جب ہم سب مل کر کلیئر ہو جائیں گے تو تب آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کر لیں گے۔ 

Watch Live Public News