جنگ بندی معاہدہ فائنل، اسرائیل یرغمالیوں کے بدلے 1 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا

 جنگ بندی معاہدہ فائنل، اسرائیل یرغمالیوں کے بدلے 1 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا
کیپشن:  جنگ بندی معاہدہ فائنل، اسرائیل یرغمالیوں کے بدلے 1 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا

ویب ڈیسک : اسرائیل اور حماس میں غزہ میں جنگ بندی کے لئے امن معاہدہ فائنل ہوگیا ہے ، معاہدے کے پہلے دن تین یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، چار اگلے ہفتے  رہا ہوں گے  جبکہ اسرائیل نے 1000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جن میں 190 ایسے ہیں جو ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے سزا کاٹ رہے ہیں۔ حماس اس مخصوص تبادلے میں 34 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی شرائط جس پر عمل درآمد کے پہلے دن تین یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا، اور چار کو اگلے ہفتے رہا کیا جائے گا، مبینہ طور پر حتمی شکل دی گئی ہے۔

 نام نہ بتانے کی شرط پر ایک فلسطینی اہلکار کا کہنا ہے کہ   حماس کی   قید میں موجود چند یرغمالیوں کی رہائی کے بعد  اسرائیلی فورسز   غزہ سے انخلاء شروع  کریں گی۔ پھر، دیگر چار مغویوں کی رہائی کے بعد، اسرائیل انکلیو کے جنوب میں بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف سفر کرنے کی اجازت دے گا۔

مروان برغوثی رہا نہیں ہوں گے

بدلے میں، اسرائیل نے مبینہ طور پر 1000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جن میں 190 ایسے ہیں جو ڈیڑھ دہائی سے زیادہ عرصے سے سزا کاٹ رہے ہیں۔ حماس بدلے میں 34 یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ تاہم فلسطینی رہنما مروان برغوثی  کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت، اسرائیلی فورسز کے پاس مشرقی اور شمالی سرحدوں کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک فلاڈیلفی کوریڈور میں 800 میٹر کے بفر زون کو برقرار رکھنے اور برقرار رکھنے کے لیے انتظامات ہوں گے۔

دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بیک وقت ڈیل جاری رکھنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔

معاہدے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مذاکرات معاہدے کے پہلے مرحلے کے دوران جنگ بندی کے 16ویں دن شروع ہوں گے۔

  یرغمالیوں کی رہائی کے لئے اسرائیل حماس معاہدے کے اہم نکات

 پہلا مرحلہ 

 33 اسرائیلی یرغمالی رہا کئے جائیں گے

اسرائیلی فوجیں غزہ مرحلہ وار خالی کرنا شروع کردیں گی

اسرائیل کی قید میں عمر قید کے فلسطینی قیدی بشمول7 اکتوبر کے’’نقبہ مجاہدین’’ کو رہا کیا جائے گا

42 دنوں تک اسرائیلی فوج فلاڈیلفیا کاریڈور میں موجود رہے گی

 دوسرا مرحلہ

مزید یرغمالیوں کی رہائی پر مذاکرات کے بعد اسرائیلی فوج 16ویں دن سے غزہ خالی کرنا شروع کرے گی

رہائی پانے والی فلسطینی قیدیوں کے لئ شمالی غزہ میں حفاظتی اقدامات

 تیسرا مرحلہ

حماس کی قید میں موجود تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد غزہ سے اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی

Axios  کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن آج اسرائیل اور حماس جنگ کے بعد غزہ کی حکومت اور تعمیر نو کے لیے اپنا منصوبہ پیش کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، بلنکن کو امید ہے کہ ان کا بلیو پرنٹ غزہ کے لیے آنے والے کسی بھی دن کے بعد کے منصوبے بشمول ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک حوالہ بن جائے گا۔

یحیی سنوار کی لاش حماس کے حوالے نہیں کی جائے گی

ایک سرکاری ذریعے نے  تصدیق کی ہے اسرائیل یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کی لاش حوالے نہیں کرے گا۔

 ذرائع کے مطابق   غزہ جنگ بندی اگلے بدھ 22 جنوری سے پہلے موثر نہیں ہو گی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ غزہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اس کے اعلان اور منظوری کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا۔

غزہ میں اسرائیل بفرزون قائم کرے گا

العربیہ کے ذرائع نے اس مسودے یا معاہدے کی تفصیلات کا انکشاف کیا اور بتایا اس معاہدے میں دو مراحل شامل ہیں۔ ہر مرحلہ 42 دن کا ہے۔ ذرائع نے کہا نمایاں نکات میں سے ایک اسرائیل کا پٹی کے شمال اور مشرق میں دو کلومیٹر گہرائی میں بفر زون قائم کرنے پر اصرار بھی ہے۔

واضح رہے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 100 اسرائیلی غزہ کی پٹی میں قید ہیں لیکن کچھ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ان میں سے نصف ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں جن میں سے بعض کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس  حوالے سے امریکی صدر بائیڈن نے  بھی اپنے خطاب میں کہا ہے کہہ  کہ ہم ایک  امن معاہدے کے بہت قریب ہیں جو تجاویز میں نے مہینوں پہلے پیش کی تھی آخر کار ان کا نتیجہ سامنے آ رہا ہے۔
اے پی کے مطابق اسرائیل سے اغوا کیے گئے یرغمالوں میں سے اب بھی 98 غزہ میں ہیں جب کہ اسرائیلی حکام کے مطابق ایک تہائی یرغمالوں کے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنگ کے دوران امریکی حکومت کو اسرائیل کو اسلحہ اور سفارتی حمایت فراہم کرنے پر عالمی تنقید کا سامنا رہا۔ مذاکرات دوحہ قطر میں فائنل کئے گئے۔

ہفتہ کےروز غزہ امن معاہدہ ہوجائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ میں یرغمالیوں اور فائر بندی کے حوالے سے معاہدہ رواں ہفتے کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔
منگل کے روز نیوز میکس ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ بات مصافحے تک پہنچ گئی ہے اور وہ معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں، تاہم انھیں اب یہ کر لینا چاہیے"۔ ٹرمپ نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے مستقبل کے نمائندے اسٹیو ویٹکوف خطے میں موجود ہیں۔ انھوں نے گذشتہ دونوں میں اسرائیلی اور قطری عہدے داران سے ملاقات کی۔ وہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے موجودہ نمائندے بریٹ مکجورک کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں جن کی کام کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے۔ مکجورک بھی کئی روز دوحہ میں موجود رہے۔

Watch Live Public News