ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل اور آسان بنا دیا گیا، وزیر اعظم 

ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل اور آسان بنا دیا گیا، وزیر اعظم 

(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عوام کی سہولت کیلئے ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل، مختصر اور مرکزی ڈیٹابیس سے منسلک کرکے آسان ترین بنا دیا گیا ہے، نئے آسان ٹیکس گوشواروں سے تنخواہ دار طبقہ سب سے ذیادہ مستفید ہوگا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آر کی تمام اصلاحات کی شفافیت کیلئے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، ٹیکس گوشواروں (Returns) کی آسانی کے حوالے سے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ ذیادہ سے ذیادہ لوگ نئے نظام کے تحت گوشوارے جمع کروائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ   ٹیکس نظام کی اصلاحات کے مثبت ثمرات وزیرِ خزانہ، معاشی ٹیم، چیئرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے، حکومت کی اولین ترجیحات میں ٹیکس بیس کا اضافہ اور غریب آدمی پر ٹیکس کے بوجھ میں مزید کمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت  کے ذریعے ٹیکس اسیسمنٹ کے نظام کا اطلاق بڑی کامیابی ہے، ایف بی آر کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ  ڈیجیٹل-انوائسنگ (Digital-Invoicing) کے نظام میں شمولیت کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو خصوصی سہولت فراہم کی جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام کے اطلاق اور دیگر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو ڈیجیٹل انوائسنگ، ای بلٹی، ٹیکس گوشواروں کو آسان بنانے، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ سسٹم، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام اور کارگو ٹریکنگ سسٹم پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اس کے علاوہ ایف بی آر کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کے قیام کی پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکے لئے بِڈنگ جلد مکمل کرکے ستمبر تک اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا. اس سے نہ صرف مرکزی ڈیٹا میسر ہوگا بلکہ فیصلہ سازی میں بھی آسانی ہوگی۔

اجلاس کو مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ نظام پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بحری جہازوں کی آمد سے پہلے تاجروں کو پیشگی گڈز ڈیکلریشن بھرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کے تحت اپ-فرنٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز پر مکمل چھوٹ دی جائے گی۔اس نظام کے اطلاق سے پیشگی گڈز ڈیکلریشن 3 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد سے زائد ہونے کی توقع ہے. اس طرح ایڈوانس گڈز ڈیکلریشن والے کنٹینروں کو بحری جہاز سے سیدھا فیکٹری پہنچنے کی سہولت میسر ہوگی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے تمام چھوٹے اور بڑے کاروبار خرید و فروخت کے وقت ایف بی آر کے آن لائن نظام کے ذریعے رسید کا اجراء یقینی بنائیں گے۔ اس نظام کے تحت آئندہ چند ماہ میں 20 ہزار کے قریب کاروبار نظام کے ساتھ منسلک ہو جائیں گے۔ صرف ایک ماہ کے دوران اس نظام کے تحت 11.6 ارب روپے کی آٹھ ہزار انوائسز کا اجراء ہوا۔ اس نظام میں ٹیکس دہندگان کا پورٹل اور اسکی نگرانی کا ڈیش بورڈ شامل ہیں۔

اجلاس کو یہ بھی  بتایا گیا کہ پرال (PRAL) کے تحت نظام سے منسلک ہونے کی سہولت بغیر کسی لاگت کے مفت فراہم کی جارہی ہے۔ تاجروں کی اس نظام کے حوالے سے تربیت یقینی بنائی جارہی ہے، اس نظام کے مکمل اطلاق کے بعد تاجروں کو سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی کیونکہ ہر خرید و فروخت خودکار طریقے سے نظام میں ریکارڈ ہورہی ہوگی۔

اسکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر رائج نظام سے ہم آہنگ 8 ہندسوں پر مبنی مخصوص HS کوڈ فیک اور فلائنگ انوائسنگ کا خاتمہ کرے گا۔ ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے سیلز ٹیکس نظام کی کارکردگی کو جانچنا مزید سہل ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام کو مؤثر بنانے کیلئے کاروباری افراد کے تربیتی سیشن بھی منعقد کئے گئے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کی سہولت کا اردو میں بھی جلد اجراء کیا جائے۔

ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل اور آسان بنانے کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 15 جولائی سے تنخواہ دار طبقے کیلئے اسکا اجراء کیا جارہا ہے جبکہ 30 جولائی کو باقی شعبوں کے ٹیکس دہندگان کیلئے بھی یہ سہولت میسر ہوگی۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے اردو ٹیکس گوشوارے 30 جولائی تک میسر ہونگے، اجلاس کو نئے اور آسان ٹیکس گوشوارے کو بھرنے کے عمل پر بریفنگ دی گئی۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے  اس حوالے سے ہیلپ لائن کے قیام اور تھرڈ پارٹی عوامی سروے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای-بلٹی کے نظام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔  اس نظام کے تحت اشیاء کی آمدورفت کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور ان اشیاء پر ٹیکس ادائیگی کی نگرانی ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے اسیسمنٹ ممکن ہوگی جس سے ٹیکس انفورسمنٹ مزید مؤثر اور بہتر ہوگی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام کے پاکستان میں اطلاق اور بین الاقوامی معیار یقینی بنانے کیلئے ترکیہ سے اس حوالے سے معاونت لی جارہی ہے۔ حال ہی میں وزیرِ اعظم کے دورہء آذربائیجان میں ترکیہ کے صدر سے گفتگو کے بعد ترک وفد پاکستان پہنچ گیا ہے اور اس نظام کی پاکستان میں جلد تشکیل و اجراء کیلئے وفد کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

Watch Live Public News