ویب ڈیسک: سیاسی و سماجی حلقوں نےمولانا فضل الرحمٰن کے پاک فوج اور شہداء سے متعلق متنازع بیان کو افسوسناک اور ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔ ناقدین کے مطابق مولانا کا بیان شہداء کی قربانیوں کی توہین اور قومی جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
وفاقی وزراء نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سیاست کا موضوع بنانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شہداء پوری قوم کا فخر اور قومی غیرت کی علامت ہیں۔ وطن پر جان قربان کرنے والوں کی عظیم قربانیوں کو کسی دنیاوی پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے بارے میں سیاسی گفتگو کی کوئی گنجائش نہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے الفاظ نے کروڑوں پاکستانیوں کے دل دکھائے ہیں، فوجی جوان تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن، قوم اور اپنے حلف کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ شہادت کے عظیم رتبے کو مالی معاوضے سے جوڑنا نہ انصاف ہے، نہ اخلاقی اقدار اور نہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ۔ شہداء کی قربانیوں کو سیاست کی نذر کرنا قابلِ مذمت ہے۔
وزیرِ مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز عون چوہدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان شہداء اور ان کے اہلِ خانہ کی کھلی توہین ہے۔ شہادت تنخواہ سے نہیں بلکہ حب الوطنی، ایمان اور جذبۂ قربانی سے ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن قوم اور شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگیں۔
وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا بیان انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول ہے۔ ایسے بیانات شہداء کے اہلِ خانہ اور ہر محبِ وطن پاکستانی کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔ شہداء کی عظیم قربانیوں کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنا قابلِ مذمت ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن فوری طور پر اپنا بیان واپس لیں اور پوری قوم سے معذرت کریں۔
صدر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا اختیار ولی نے کہا کہ پاک فوج کے شہداء کے لیے تنخواہ کا بیانیہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ فہم ہے۔ کیا دنیا میں کوئی صرف پیسوں کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے؟ مولانا کا بیان پاک فوج کی لازوال قربانیوں کو مجروح کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ ذرا ہوش سنبھال کر بات کریں، یہ فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئر بیورو سارہ احمد نے کہا کہ پاکستان کے شہداء کی قربانیوں کو کبھی تنخواہوں یا مادی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ایسے ریمارکس شہداء کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔
عظمی بخاری نے کہا کہ فوجی جوان روز ہماری حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے دیکر اپنے ماں باپ اور ملک کو سرخرو کررہے ہیں۔ شہدا کی قربانیوں کو پیسوں میں تولنا بہت تکلیف دہ عمل ہے۔ اپنے بیٹوں کو ڈبل تنخواہ پہ بارڈرز پہ بھیج کے دکھائیں۔
بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا جذبات مجروح کرنے والا اقدام ہے۔ سپاہیوں کی قربانیاں حب الوطنی، ایمان، فرض شناسی اور جذبہ ایثار کا مظہر ہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج عالم اسلام اور اقوام عالم میں پاکستان کی قدر و قیمت اوروقار افواج پاکستان کے طفیل ہے۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زندہ قومیں جان نثار کرنے والوں کو قوم کا محسن شمار کرتی ہیں۔ یہی شہداء اور غازی ہماری آزادی کے ضامن ہیں۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان مجاہدوں کی خدمت پر سوال اٹھانا ملک اور ملت کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔
مختلف رہنماؤں کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن سے بیان واپس لینے اور قوم و شہداء کے لواحقین سے معذرت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔