عدالتی حکم پر عمل درآمد، کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا

عدالتی حکم پر عمل درآمد، کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا
کیپشن: عدالتی حکم پر عمل درآمد، کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا

ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے منسوب کیے گئے کینیڈی سینٹر سے ان کا نام باضابطہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے، جس پر وفاقی عدالت کے فیصلے کے بعد عمل درآمد کیا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی ضلعی جج کرسٹوفر کوپر کے حکم کے تحت واشنگٹن ڈی سی میں واقع معروف ثقافتی مرکز کینیڈی سینٹر کی عمارت اور اس کی ویب سائٹ سے ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام حوالہ جات حذف کر دیے گئے ہیں۔

کینیڈی سینٹر کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عمارت کے اندر اور باہر نصب تمام تختیوں، سائن بورڈز اور آن لائن مواد سے صدر ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

عدالت نے کینیڈی سینٹر انتظامیہ کو حکم پر عمل درآمد کے لیے آج تک کی مہلت دی تھی، جبکہ امریکی اپیلز کورٹ نے نام ہٹانے کے عمل کو روکنے کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کینیڈی سینٹر کا نام امریکی کانگریس نے رکھا تھا، لہٰذا اسے تبدیل کرنے کا اختیار بھی صرف کانگریس کے پاس ہے۔ جج کرسٹوفر کوپر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مرکز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو یکطرفہ طور پر ادارے کا نام تبدیل کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں۔

ہفتے کی صبح تعمیراتی عملے نے عمارت کے بیرونی حصے سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا کام شروع کیا۔ یاد رہے کہ تقریباً چھ ماہ قبل ٹرمپ کے نامزد کردہ بورڈ نے ووٹنگ کے ذریعے کینیڈی سینٹر کی ’ری برانڈنگ‘ کرتے ہوئے اسے صدر ٹرمپ کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوسری جانب کینیڈی سینٹر انتظامیہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر عمارت سے ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا تو ادارے کو عطیات اور تزئین و آرائش کے لیے مختص کروڑوں ڈالر کی مالی معاونت واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق بعض عطیہ دہندگان نے اپنی مالی معاونت کو عمارت پر ٹرمپ کے نام کی موجودگی سے مشروط کر رکھا تھا۔

تاہم عدالت نے اس مؤقف کو نام کی تبدیلی کے قانونی جواز کے طور پر تسلیم نہیں کیا اور مقررہ مدت کے اندر نام ہٹانے کا حکم برقرار رکھا۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر کینیڈی سینٹر کے انتظامی معاملات میں نمایاں کردار حاصل کیا تھا، تاہم حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد ادارے کی نامزدگی سے متعلق تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

Watch Live Public News