(ویب ڈیسک)عراق کا تاریخی دریائے فرات شدید خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث اپنی تاریخ کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث نجف، سماوہ اور دیگر بڑے شہر پانی کی شدید قلت کا شکار ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق، جس کی آبادی 4 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، طویل خشک سالی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور پانی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
نجف یونیورسٹی کے ماہر حسن الخطیب کے مطابق دریائے فرات کی سطح میں حالیہ ہفتوں کے دوران غیر معمولی حد تک کمی آئی ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی۔
عراقی وزارتِ آبی وسائل کا کہنا ہے کہ ملک کو فرات سے اپنے مقررہ حصے کا محض 35 فیصد یا اس سے بھی کم پانی میسر ہے، جبکہ مصنوعی آبی ذخائر بھی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں، جس سے نہ صرف زرعی شعبہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ شہری ضروریات بھی پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
دریا کے بہاؤ میں کمی نے آبی معیار کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ حکام کے مطابق دریائے فرات میں خود رو آبی پودوں کی بھرمار ہو چکی ہے، جو روزانہ کئی لیٹر پانی جذب کر لیتے ہیں۔ یہ پودے سورج کی روشنی اور آکسیجن کی راہ میں رکاوٹ بن کر آبی حیات کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن بھی بگڑنے لگا ہے۔