(ویب ڈیسک ) چیئرمین اسلامى نظریاتى كونسل راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ اسرائیلى مصنوعات اور كمپنیوں كا معاشى بائیكاٹ كرنا ضروری ہے ،معاشى بائیكاٹ مىں عام شہریوں كى جان و مال اور املاک كو نقصان نہ پہنچایا جا ئے۔
چىئرمىن اسلامى نظرىاتى كونسل راغب نعیمی کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائىلى جارحىت كو ڈىڑھ سال پورے ہونے كو ہىں۔ اڑھائى ماہ پہلے جنگ بندى كے معاہدہ کے باجود اسرائىل نے خلاف ورزى كرتے ہوئے مزىد شدت كے ساتھ دوبارہ غزہ پر بمبارى كا آغاز كىا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائىلى قتل عام كے نتىجے مىں اب تك ساٹھ ہزار سے زائد مسلمان شہىد اور لاكھوں زخمى اور معذور ہو چكے ہىں۔ جن مىں زىادہ تعداد معصوم بچوں اور خواتىن كى ہے۔ غزہ كا 80% حصہ كھنڈرات مىں تبدىل ہو چكا ہے۔ غزہ شہر اس وقت مكمل اسرائىلى محاصرے مىں ہے ، غذائى اور طبى اشىاء كى سپلائى روك دى گئى ہے اور بجلى كا نظام تقرىبا ً تباہ كر دىا گىا ہے۔
راغب نعیمی نے کہا کہ اسرائیل کی غزہ پر حالیہ ظلم و بربریت پوری دنیا کے مسلمانوں کی اسلامی غیرت و حمیت کو جھنجھوڑ رہی ہےاور تقاضا کر رہی ہے كہ وہ اسرائیل کی مجرمانہ سرگرمیوں کی دو ٹوک انداز میں نہ صرف مذمت کریں، بلکہ جس حد تک استطاعت ہو، اسے روکنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ عالمى سطح پر اسرائىلى ىہودى كمپنىاں اس قاتل فوج كو ہر طرح كى امداد فراہم كررہی ہىں۔ ان كمپنىوں كى پراڈكٹس كى خرىد و فروخت مسلمان ملكوں مىں بھی ہو رہى ہے اور اس سے حاصل ہونے والے منافع كى رقم فلسطىن و غزہ كے مسلمانوں كى نسل كشى (Genocide) مىں استعمال ہو رہى ہے۔ لہذا بحىثىت مسلمان ہمارا دىنى و ملى فرىضہ بنتا ہے كہ ہم ان تمام مصنوعات اور كمپنىوں كا معاشى بائىكاٹ كرىں جو كسى بھى طرح اسرائىل كو اپنى كمائى مىں سے حصہ دے رہى ہىں ىا ان كو كسى بھى طرح كا تعاون و امداد فراہم كر رہى ہىں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاشی بائیکاٹ کرنے میں اس امر کا لحاظ رکھنا از حد ضروری ہے کہ عام شہریوں كى جان و مال اور املاک كو نقصان پہنچانے سے مكمل اجتناب كىا جائے، کیونکہ ہمارا دىن اس بات كى اجازت نہىں دىتا ۔