بھارت کے یوم آزادی پر مودی کا پاکستان مخالف ایک اور بیان

بھارت کے یوم آزادی پر مودی کا پاکستان مخالف ایک اور بیان
کیپشن: بھارت کا جشن آزادی: مودی کا پاکستان مخالف ایک اور بیان

ویب ڈیسک: مودی کا جنگی جنون کم نہ ہوسکا۔ پاکستان کیخلاف ایک اور بیان داغ دیا۔ سندھ طاس معاہدے کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی دریاؤں سے دشمن (پاکستان) ملک کی زمینیں سیراب ہورہی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ایک بار پھر اپنے جنگی عزائم کا اظہار کرتے ہوئے جدید دفاعی نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جسے تجزیہ کار خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نریندر مودی نے لال قلعے سے قوم سے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت 2035 تک ایک نیا دفاعی نظام ’’ سودرشن چکر‘‘ تیار کرے گی، جس کا مقصد اہم قومی مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنز، اسپتالوں اور مذہبی مقامات کا تحفظ ہوگا۔ مودی نے اس منصوبے کو بھگوان شری کرشن کے افسانوی ہتھیار سودرشن چکر سے متاثر قرار دیا۔ ان کے بقول، یہ سیکیورٹی شیلڈ دشمن کو ’’تباہ کن جواب‘‘ دینے کے قابل ہوگی اور اس میں پریسائز ٹارگٹ سسٹم شامل ہوگا جو ہدف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مودی نے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف کیے گئے آپریشن ’’سندور‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی دفاعی ٹیکنالوجی نے پاکستان کے مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا۔ تاہم، تجزیہ کاروں کے مطابق رافیل طیاروں کی ناکامی اور پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں بھارت کے 6 جنگی طیاروں کی تباہی کے باوجود مودی حکومت فرانس سے مزید رافیل طیارے خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، آپریشن سندور کے بعد اسکواڈرن کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بھارتی فضائیہ نے ایم آر ایف اے منصوبے کے تحت غیر ملکی تعاون سے بھارت میں رافیل طیارے تیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس وقت بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرن کی تعداد 29 تک کم ہو چکی ہے، جس پر فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ مئی کے اوائل میں بھارت نے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور کا آغاز کیا تھا، جس کے دوران بھارتی طیاروں نے بہاولپور سمیت مختلف شہروں پر فضائی حملے کیے، تاہم پاکستان ایئر فورس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے رافیل سمیت 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔ اس کے بعد 10 مئی کو پاکستان نے بھارتی ایئر بیسز اور فوجی تنصیبات پر فتح میزائلوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ بندی کے لیے بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی قبول کی، جس پر پاکستان نے حملے روکنے کا اعلان کیا۔

Watch Live Public News