ویب ڈیسک: آسام، ناگا لینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش میں بھارتی یومِ آزادی کا بائیکاٹ، آج بھارتی یومِ آزادی ’’ یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منایا گیا۔
شمال مشرقی ریاستوں کے بڑے علیحدگی پسند گروہوں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام ، نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ اور الائنس فار سوشلسٹ یونٹی کنگلیپک (منی پور) نے مشترکہ طور پر بھارتی یومِ آزادی کا مکمل بائیکاٹ اور ہڑتال کا اعلان کیا -
ناگا لینڈ نے اپنا “یومِ آزادی” 14 اگست کو منایا، 15 اگست کو آسام، ناگا لیںڈ اور منی پور میں عوام گھروں میں رہے اور سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کیا گیا-
یہ ریاستیں بھارت کو “نوآبادیاتی قبضہ” قرار دیتی ہیں اور قابض بھارتی فوج کے خلاف مسلح مزاحمت کر رہی ہیں۔
آسام میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ (آزاد) قیادت میں مکمل بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔ حکومت نے 22 مبینہ باغی گرفتار کیے ہیں۔
منی پور میں الائنس فار سوشلسٹ یونٹی کنگلیپک نے 12 گھنٹے کی عام ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے 15 اگست کو “کالونیل فریڈم ڈے” قرار دیا ہے,ناگا لینڈ میں ینگ آؤنگ دھڑے نے مکمل بائیکاٹ کی حکمتِ عملی اپنائی ہے- بھارتی حکومت کی عملداری کہیں دکھای نہ دی۔
ناگا لینڈ نے اپنا “یومِ آزادی” 14 اگست کو بھرپور انداز میں عوامی شرکت، ریلیوں اور ناگا پرچم لہرا کر منایا۔ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ کی مسلح فورسز اور جی پی آر این (خودساختہ حکومت) نے تقاریب میں شمولیت کی۔
اروناچل پردیش میں تِراپ، چنگلانگ اور لانگڈِنگ اضلاع میں بھارتی حکومت بے بس دکھای دی ہے۔
بھارتی حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات میں تقریبات منعقد کیں ، جن میں سرکاری ملازمین جبراً شریک ہوئے ۔
شمال مشرق میں “ایک بھارت” کا نعرہ کمزور پڑ رہا ہے، اور مقامی تحریکیں اپنی شناخت اور آزادی کے لیے بھارت کے قومی دن کو چیلنج کر رہی ہیں۔