ویب ڈیسک: چین کے مشرقی صوبے جیانگسو میں ایک انجینئر کو دورانِ ملازمت طویل بیت الخلا کے وقفے لینے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا، جس پر متاثرہ ملازم نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بواسیر کے مرض میں مبتلا ہے۔
غیر ملکی رپورٹس کے مطابق اپریل اور مئی 2024 کے دوران لی نامی انجینئر نے مجموعی طور پر 14 بار بیت الخلا کے طویل وقفے لیے، جن میں سے ایک وقفہ چار گھنٹے تک جاری رہا۔
ملازمت سے برطرفی کے بعد لی نے کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے غیر قانونی برطرفی کا مقدمہ دائر کیا اور 3 لاکھ 20 ہزار یوآن، جو تقریباً 45 ہزار امریکی ڈالر بنتے ہیں، بطور معاوضہ طلب کیے۔
لی نے اپنے مؤقف کے حق میں بواسیر کی ادویات اور جنوری میں اسپتال میں ہونے والے علاج کے ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بیت الخلا میں گزارا گیا وقت جسمانی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا، اس لیے کمپنی کا اقدام درست ہے، جس کے بعد درخواست مسترد کر دی گئی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ چین کے لیبر قوانین کے تحت ملازمین کو حفظانِ صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، تاہم غیر معمولی اور طویل وقفوں کو ملازمت کے قواعد کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔