چارجنگ اسٹیشنوں کیلئے ٹیرف میں45فیصدکمی ,بجلی کا یونٹ39 روپے کا ہوگا

چارجنگ اسٹیشنوں کیلئے ٹیرف میں45فیصدکمی ,بجلی کا یونٹ39 روپے کا ہوگا
کیپشن: چارجنگ اسٹیشنوں کیلئے ٹیرف میں45فیصدکمی کااعلان

ویب ڈیسک: شہریوں کو ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے کیلئے وفاقی حکومت نے بڑا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی اویس احمد خان لغاری نے بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عوام کیلئے بجلی کی قیمت کم کرنے اور ایندھن والی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے جن کا تعلق عوام سے ہوتا ہے، ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس سال گردشی قرضے میں 12 ارب کی کمی کی ہے۔ ڈسٹریبیوشن کمپنیز نے پچھلے سال 240 ارب کا نقصان کیا جو ہم نے اس سال 170 ارب سے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ بورڈز کے غیر سیاسی اور بہتر گورننس ہونے کا 53 ارب روپے کا فائدہ ہے جو پہلے 5 ماہ میں قوم کو ملا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں کیلئے ہر جگہ پر چارجنگ اسٹیشنز نہیں ہیں، اس نئے کاروبار کی حوصلہ افزائی اور شہریوں کو سستا متبادل فراہم کرنے کیلئے حکومت چارجنگ اسٹیشنز کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 45 فیصد کمی کررہی ہے۔ الیکٹرک موٹر سائیکل پر منتقل ہونے سے 77 فی صد تک کی بچت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکل کیلئے 15 دن کے اندر پورٹل سے اجازت نامہ مل جائے گا، اس سلسلے میں کسی افسر سے بات نہیں کرنی پڑے گی۔ اسی طرح بجلی کی قیمت 71 روپے سے کم کرکے 39 روپے پر لائی جا رہی ہے۔

اویس احمد لغاری کا کہنا تھا کہ کل ہم نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا۔ صنعت کار شکایات کرتے ہیں کہ آپ کا ایکس سی این، چیف انجینئر یا دیگر حکام لوڈ بڑھانے یا نئے کنکشنز اور بلنگ کے معاملات میں ہمیں تنگ کرتے ہیں۔ ہمیں ان مسائل کے حل کے لیے ون ونڈو آپریشن چاپیے، جس پر وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں فیصلہ کیا، جس کے تحت تمام انڈسٹریل اسٹیٹس بشمول اسپیشل اکنامک زونز سب کو ایک ہی جگہ پر بجلی ملے گی، وہاں جو بھی بلنگ اور کنکشنز کے مسائل ہوں گے، وہ سب ایک ہی جگہ پر حل ہوں گے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ یہ ایک انقلابی قدم ہے جس کے ذریعے ہم نے خود کو اختیار سے دُور کیا اور اختیار انڈسٹریل اسٹیٹس میں جاکر رکھ دیا تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ آج وزیراعظم نے ایک اہم اجلاس کیا، جس میں پاکستان میں آلودگی اور ایندھن کے استعمال سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے اہم فیصلہ کیا گیا۔

وزیر توانائی نے بتایا کہ پاکستان میں صرف موٹر سائیکل اور تھری ویلرز کے لیے 6 ارب ڈالر کا فیول امپورٹ ہوتا ہے، جس سے بچنے کیلئے ہم الیکٹرک گاڑیوں کو لوگوں کی پہنچ میں لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاور ڈویژن نے بہت بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ پاکستان میں چارجنگ اسٹیشنز نہیں ہیں، جس کی وجہ بجلی کی مہنگی قیمت ہے اور قوانین بھی اس میں رکاوٹ ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بشمول ٹیکسز اس وقت ان چارجز اسٹیشنز کو 71.10 پیسے کا ٹیرف دے رہے تھے، اسے 45 فی صد کم کرکے ہم 39.70 پیسے کا ٹیرف دینے کا اعلان کررہے ہیں تاکہ بجلی کی کم قیمت چارجنگ اسٹیشنز کو ملنے کی وجہ سے الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنا سستا ہو۔ الیکٹرک موٹر سائیکل پر شفٹ ہونے سے 33 فی صد کا استعمال ہے اور 77 فی صد کی بچت ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ چارجنگ اسٹیشنز کے لیے 15 دن میں اجازت نامہ ای پورٹل کے ذریعے مل جائے گا اور لوگ کاروبار شروع کر سکیں گے۔ جس کے ذریعے ملک میں ہر درجے کا ایک نیا کاروبار شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سطح پر اسے ایک بڑی پیش رفت سمجھتے ہیں جو اچھے ماحول کی جانب بڑا قدم ہے۔ حکومت کا یہ اقدام عام گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں پر منتقلی کا بڑا موقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات دراصل بجلی کی قیمت کم کرنے کا سفر ہے جو ڈسکوز کی نجکاری اور آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے لے کر عام آدمی کو فائدہ پہنچانے تک ہے۔ حکومت ملک کے بجلی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گی، جس میں ایس آئی ایف سی کا کردار کلیدی حیثیت کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے عوام اور ہر پاکستانی ان اقدامات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا سفر جاری ہے اور اگلے چند ماہ میں پاکستان خطے کی سستی ترین بجلی کو لوگوں تک، انڈسٹری تک، صارفین تک پہنچانے کی پوزیشن میں آ جائے گا، جس میں بہت حد تک کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔

Watch Live Public News