ویب ڈیسک : امریکا اور دنیا بھر کی تمام نظریں اگلے ہفتے صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری پر جمی ہیں، آئیے جانتے ہیں کون ہے ’’ان’’ اور کون ہے’’ آؤٹ’’۔ کون بلانے کے باوجود نہیں آئے گااور کون بے چین ہے دعوت نامہ پانے کے لئے۔
صدر جو بائیڈن کا شرکت کا اعلان

صدرجو بائیڈن نے تصدیق کی کہ وہ "یقیناً" ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یادرہےٹرمپ نے 20 جنوری 2021 کو 46 ویں امریکی صدر کے طور پر بائیڈن کی حلف برداری میں شرکت نہیں کی۔ وہ 150 سالوں میں پہلے صدر تھے جنہوں نے امریکا میں اقتدار کی پرامن منتقلی کی روایت س کو توڑ ا۔
مشیل اوباما کی عدم شرکت

سابق خاتون اول مشیل اوباما اگلے ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گی، ان کے دفتر نے منگل کو اپنے فیصلے کی کوئی وضاحت فراہم کیے بغیر کہا۔
پہلی بار غیرملکی مہمانوں کو تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت
، اس بار، نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غیر ملکی صدور اور وزرائے اعظم کو مدعو کر کے روایت کو توڑ رہے ہیں، کیونکہ عام طور پر امریکی صدرکی تقریب حلف برداری میں غیرملکی مہمانوں کو مدعو نہیں کیا جاتا۔
تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے بڑی عالمی طاقتوں اور امریکا کے اہم اتحادیوں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔
کیا چین کے صدر شی جی پنگ آئیں گے؟

مدعو ہونے والوں میں چینی صدر شی جن پنگ بھی شامل ہیں، لیکن کیا وہ شرکت کریں گے؟ یہ ملین ڈالر سوال ہے تاہم اس کے بارے میں چینی حکومت یا وزارت خارجہ کی جانب سے ابھی تک کوئی عندیہ نہیں دیاگیا اور ممکنہ طورپر شی جن پنگ تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کریں گے۔
اٹالین پرائم منسٹر جارجیا میلونی

طالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے، حالانکہ وہ ابھی تک اپنا شیڈول چیک کر رہی ہیں۔ یادرہے انہوں نے کچھ دن پہلے ہی صدر ٹرمپ کی فلوریڈا میں واقع رہائش گاہ مار اے لاگو میں ایک ڈنر میں شرکت کی تھی ۔
ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اہم اتحادی، ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ایک ترجمان نے گزشتہ ماہ میڈیا کو اسر امر کی تصدیق کی ہے۔2023 میں سربراہ کے طور پر منتخب ہونے والے میلی کو ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کے لیے جانا جاتا ہے۔
صدر ایل سلواڈور نائیب بوکیل

پچھلے سال، ڈونالڈ ٹرمپ جونیئر نے ایل سلواڈور کے صدر نائیب بوکیل کی دوسری مدت کے لیے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
بوکیل پہلے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ٹرمپ کو انتخابی کامیابی کے بعد عوامی طور پر مبارکباد دی۔
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن کو اس تقریب کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور مزید کہا کہ وہ ابھی اس بارے میں غور کر رہے ہیں کہ آیا وہ شرکت کریں گے۔ یادرہے انہیں ٹرمپ کے سب سے وفادار غیر ملکی اتحادیوں میں سے ایک ا سمجھا جاتا ہے ۔ انتخابی جیت کے بعد مار-اے-لاگو میں ٹرمپ نے ان کاخیرمقدم کیا تھا۔ امریکا میں ٹرمپ کے بہت سے حامی اوربن کی پالیسیوں کو ٹرمپ کی دوسری مدت کے لیے ایک ممکنہ نمونہ سمجھتے ہیں۔
برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو

برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو نے انکشاف کیا کہ انہیں افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا اور وہ اس وقت اپنا پاسپورٹ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو گزشتہ سال 2023 کی بغاوت کی کوشش کی تحقیقات کے دوران ضبط کر لیا گیا تھا۔
جاپان کے تاکیشی ایویا

جاپانی وزیر خارجہ تاکیشی ایویا نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تصدیق کی، جاپان آنے والی امریکی انتظامیہ کے ساتھ مضبوط تعلقات چاہتا ہے۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "ہم ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں،"
بھارت کی نمائندگی کون کرے گا؟

وزیر خارجہ ایس جے شنکر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے ہیں۔
فرانس کے دائیں بازو کی سیاستدان ایرک زیمور

فرانس کے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان ایرک زیمور بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔
برطانوی دائیں بازو کے سیاستدان نائیجل فاریج

اسکائی نیوز کے مطابق، برطانیہ کے ایک سیاست دان نائجل فاریج نے بھی اپنی حاضری کی تصدیق کی۔
کون مدعو نہیں ہے؟

روسی صدر ولادی میر پیوٹن اس تقریب سے خاص طور پر غیر حاضر ہوں گے جبکہ شمالی کوریا کے کم جونگ ان بھی نہیں موجود ہوں گے جو ٹرمپ کے پسندیدہ تو ہیں مگر جنہیں مبینہ طور پر تقریب کے لئے دعوت نامے نہیں بھیجے گئے ۔
یوروپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین بھی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی لیکن انہوں نے جلد ہی نئی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یورپی یونین کی ترجمان پاؤلا پنہو نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں شرکت کا کوئی منصوبہ ہے۔" ہم نئی انتظامیہ کے ساتھ جلد رابطے کی کوشش کریں گے۔
افتتاحی تقریب کے لئے 170 ملین ڈالر کا ریکارڈ عطیہ
رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے افتتاح کے لیے 170 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم اکٹھی کی ہے - یہ ایک ریکارڈ رقم، جس میں بڑے کاروباریوں ٹیک ایگزیکٹوز اور عطیہ دہندگان نے دل کھول کر تعاون کیا ہے ۔
ایلون مسک ، مارک زکر برگ ، جیف بیزوس سمیت ٹیک جائنٹس کی شرکت

ارب پتی ایلون مسک، مارک زکربرگ، راما سوامی اور جیف بیزوس 20 جنوری کو امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے، ان افراد کو تقریب میں ایک نمایاں جگہ پر دیگر اہم مہمانوں کے ساتھ بٹھایا جائے گا،
وی آئی پی ٹکٹس کی قلت
امریکا سمیت دنیا کی اہم شخصیات ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت حاصل کرنے کی امید میں VIP پاسز کے حصول کے لئے دھکے کھا رہی ہیں مگر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جگہ کی قلت کے باعث لاکھوں ڈالر عطیات دینے والوں کو بھی ایک وی آئی پی ٹکٹ نہیں مل پارہی ۔
جگہ کی کمی کی وجہ سے منتظمین نے ٹکٹوں کی فروخت کو جلد روک دیا حالانکہ اس سے قبل کہا گیاتھا کہ جمعے تک ٹکٹو ں کی فروخت جاری رہے گی۔ ڈونر پیکجز کے لیے مارکیٹنگ کے مواد میں واضح طور پر کہا گیا ہے، "جگہ محدود ہے۔"

کنٹری میوزک اسٹار کیری انڈر ووڈ ڈونلڈ ٹرمپ کے افتتاح کے موقع پر " امریکا دی بیوٹی فل" گانے پر پرفارم کریں گی اور 1970 کی دہائی کے ہٹ میکرز ویلج پیپل دو افتتاحی تقریبات میں پرفارم کریں گے۔

امریکی ڈسکو گروپ ویلج پیپل نے 70 کی دہائی کے اواخر میں اپنے گانوں کے ساتھ ساتھ ڈانس-پاپ ہٹ گانے میں اپنا نام بنایا۔ ان کی مشہور ترین ہٹ، "Y.M.C.A.،" کو بڑے پیمانے پر ہم جنس پرستوں کا ترانہ سمجھا جاتا ہے اور یہ گانا ان کے ہٹ "Macho Man" کے ساتھ ساتھ گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ کی ریلیوں میں مسلسل بجایا جاتا رہا ہے جس پر صدر امریکا ڈونلڈٹرمپ رقص کرتے رہے۔
افتتاحی تقریب کے دیگر فنکاروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فرمائش پر ان کے دو پسندیدہ گلوکار لی گرین ووڈ اور اوپیرا گلوکار کرسٹوفر میکیو شامل ہوں گے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھانے آئیں گے تو گرین ووڈ پرفارم کریں گے پروگرام کے اختتام پر قومی ترانہ بجانے کے لیے کرسٹوفرمیکیو کا انتخاب کیاگیا ہے۔

47 ویں صدر کے طور پر ٹرمپ کے پہلے دن صبح ایک قومی دعائیہ سروس شامل ہوگی۔ جو فرینکلن گراہم، آنجہانی پادری بلی گراہم کے بیٹے، اور نیویارک کے کارڈینل ٹموتھی ڈولن پیش کریں گے۔

4 روزہ افتتاحی تقریبات
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریباتی کمیٹی نے چار روزہ افتتاحی تقریبات کا شیڈول جاری کردیا ہے۔
نئے صدر کی افتتاحی تقریبات کا آغاز اختتام ہفتہ سے ہوگا واشنگٹن میں سٹرلنگ، ورجینیا میں ٹرمپ کے گولف کلب میں آتش بازی کے شو سے ہوگا واشنگٹن ڈی سی میں انتخابی ریلی، آرلنگٹن نیشنل قبرستان کا دورہ اور اس سے پہلے شاندار عشائیہ دیا جائے گا ۔
افتتاحی کمیٹی کے شریک چیئرز، اسٹیو وِٹکوف اور کیلی لوفلر نے ایک بیان میں کہا، ’’صدر ٹرمپ اپنے امریکہ فرسٹ ایجنڈے کی طاقت، سلامتی اور مواقع کے ذریعے ملک کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ہفتہ کو، ٹرمپ ورجینیا کے سٹرلنگ میں واقع اپنے ٹرمپ نیشنل گالف کلب میں ایک استقبالیہ اور آتش بازی کے ڈسپلے میں شرکت کرنے والے ہیں۔ علیحدہ طور پر، نائب صدر منتخب جے ڈی وینس آنے والے کابینہ کے ارکان کے استقبالیہ میں شرکت کریں گے اور عشائیہ کا اہتمام کریں گے۔
اتوار کو، منتخب صدر آرلنگٹن نیشنل قبرستان میں پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں شرکت کریں گے اور پھر واشنگٹن کے مرکز میں کیپیٹل ون ایرینا میں مہم طرز کی "MAGA وکٹری" ریلی کا انعقاد کریں گے۔ ریلی میں village people پرفارم کریں گے۔
ریپبلکن کے یوم تاسیس کے منصوبوں میں وائٹ ہاؤس میں چائے، کیپیٹل میں حلف برداری کی تقریب، کانگریس کا لنچ، پنسلوانیا ایونیو پر پریڈ اور تین بال نائٹس شامل ہیں جن سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطاب کریں گے۔