ویب ڈیسک : 11 زندہ یرغمالوں اور 16 کی لاشیں واپس کرو۔ غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے کیلئے اسرائیل کی شرط،، اسرائیل عمر قید کے 110 اور غزہ میں گرفتار کیے گئے 1100فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق حماس نے کہا ہے کہ وہ آخری زندہ امریکی یرغمال ایڈن الیگزینڈراور 4 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے کے لئے تیارہے جبکہ امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ امریکی اسرائیلی فوجی کی رہائی مذاکرات جاری رکھنے کی کی ایک شرط تھی۔
وٹکوف نے بیان میں کہا کہ اس تجویز کے مطابق حماس فلسطینی قیدیوں کے بدلے مزید یرغمالوں کو رہا کرے گی، اور یہ کہ پہلے مرحلے کی جنگ بندی میں توسیع سے غزہ میں انسانی امداد کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے مزید وقت ملے گا۔
ایلچی نے کہا کہ امریکہ نے اپنے قطری اور مصری ثالثی شراکت داروں کو کہا تھا کہ حماس کو دو ٹوک الفاظ میں یہ پیغام دیا جائے کہ نئی تجویز پر جلد عمل درآمد کرنا ہوگا اور اسے ایڈن الیگزینڈر کو رہائی فوری طور پر کرنا ہوگی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے جنگ بندی کو مزید بڑھانے کے لیے تجاویز کا ذمہ داری اور مثبت انداز میں جواب دیا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل نے حماس پر "ہیر اپھیری کرنے اور نفسیاتی جنگ" چلانے کا الزام لگایا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کا تجویز کردہ منصوبہ منظور کر لیا ہے لیکن حماس اس سے انکار کررہی ہے اور وہ اپنے موقف سے مطلق بھی پیچھے نہیں ہٹی۔
’ وٹکوف پروپوزل ’ کیا ہے؟
صدر ٹرمپ کے ایلچی کی تجویز کے مطابق اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ اپریل تک جاری رہے گا جس کے پہلے روز باقی کے نصف یرغمالوں کو ایک ساتھ رہا کیا جائے گا۔ معاہدے کے آخری دن باقی کے یرغمالوں کو اکٹھےا آزاد کیا جائے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف نے بدھ کو قطر میں تجویز پیش کی کہ اگر حماس فلسطینی قیدیوں کے بدلے زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دے تو جنگ بندی کے پہلے مرحلے کو اپریل کے وسط تک بڑھایا جا سکتا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ حماس کو بتایا گیا تھا کہ اس تجویز پر جلد عملدرآمد کرنا ہوگا اور اس دوہری شہریت رکھنے والے امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔‘
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو ماہ رمضان اور یہودی عید الفصح کے بعد اپریل تک بڑھانے اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے بات چیت کے لیے وقت دینے کے مقصد کے ساتھ خرابیوں کو کم کرنے کا منصوبہ پیش کر رہا ہے۔
جاری کردہ ایک بیان کے مطابق بدھ کو امریکی خصوصی ایلچی وٹکوف اور قومی سلامتی کونسل کے اہلکار ایرک ٹریگر نے یہ تجویز پیش کی تھی۔
بہت بری شرط
وائٹ ہاؤس نے حماس پر "مکمل طور پر ناقابل عمل" مطالبات کرنے اور غزہ میں جنگ بندی میں توسیع کے بدلے میں ایک امریکی اسرائیلی یرغمالی کی رہائی کے معاہدے تک پہنچنے میں تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔
صدر ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے دفتر سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس بہت بری شرط لگا رہی ہے جیسے وقت اس کے ساتھ ہے اور ایسا نہیں ہے۔ اگر حماس ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کرتی ہے تو امریکہ "مناسب جواب" دے گا۔
کچھ لاشوں کے علاوہ 5 قیدیوں کو 10 دن یا اس سے زیادہ کے اندر زندہ رہا کرنے کا کہا گیا ہے۔
غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ 19 جنوری سے شروع ہو کر 42 دن تک جاری رہا اور یکم مارچ کو ختم ہوگیا۔ تاہم اس دوران بعد کے مراحل پر کسی معاہدے پر پہنچا نہ جا سکا۔ حماس اب بھی غزہ میں 59 یرغمالی رکھے ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے چھے ہفتے کے ابتدائی مرحلے کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 1,800 فلسطینیوں کے بدلے مزاحمت کاروں نے 33 قیدیوں کو رہا کیا جن میں سے آٹھ کی لاشیں لوٹائی گئیں۔