امریکی یونیورسٹیوں میں فلسطینی حامی غیر ملکی طلبا کیخلاف آپریشن، طالبہ گرفتار

Woman who protested at Columbia University arrested
کیپشن: Woman who protested at Columbia University arrested
سورس: google

  ویب ڈیسک : امریکا میں فلسطین حامی مظاہروں میں شامل غیرملکی طلبہ پر شکنجہ کسا جا رہا ہے۔   محمود کے بعد کولمبیا یونیورسٹی کی ایک اور طالبہ گرفتار کر لی گئی ۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور فلسطینی طالبہ، لیقا کورڈیا، کو امیگریشن حکام نے زائد المیعاد ویزا پر گرفتار کر لیا۔ انہیں 2024 میں کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے الزام میں پہلے بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یاد رہے مشہور فلسطینی طلبہ کارکن محمود خلیل کو پچھلے ہفتے وفاقی امیگریشن حکام نے گرفتار کر لیا تھا۔

دوسری طرف کولمبیا یونیورسٹی میں شہری منصوبہ بندی (اربن پلاننگ) کی پی ایچ ڈی طالبہ سرینواسن کا ویزا امریکی حکومت نے منسوخ کر دیا، جس کے بعد انہوں نے خود ملک چھوڑ دیا۔

امریکی محکمہ داخلہ (ڈی ایچ ایس) کے مطابق،  بھارتی طالبہ سرینواسن کا ویزا 5 مارچ کو منسوخ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے 11 مارچ کو کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (سی بی پی) ہوم ایپ کے ذریعے خود ملک بدری کا اختیار استعمال کیا۔ امریکی حکام کا الزام ہے کہ وہ فلسطین حامی مظاہروں میں سرگرم تھیں اور انہوں نے "حماس کی حمایت" کی، جسے 1997 میں امریکہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکومت کی جانب سے کولمبیا یونیورسٹی میں جاری فلسطین حامی مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے

کولمبیا کے یونیورسٹی کے حکام نے اعلان کیا کہ ان طلبا کو معطل یا نکال دیا گیا ہے جنہوں نے گذشتہ سال فلسطین کے حق میں احتجاج کے دوران کیمپس کی ایک عمارت پر قبضہ کر لیا تھا، جبکہ کچھ ایسے طلبا کی ڈگریاں بھی عارضی طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں جو بعد میں گریجویٹ ہوئے۔

یونیورسٹی نے ایک کیمپس ای میل میں کہا کہ عدالتی بورڈ نے ان طلبہ کو مختلف سزائیں سنائی ہیں جنہوں نے گذشتہ بہار میں غزہ جارحیت  کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہیملٹن ہال پر قبضہ کیا تھا۔

تاہم، کولمبیا یونیورسٹی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے طلبا کو نکالا گیا، معطل کیا گیا، یا ان کی ڈگریاں منسوخ کی گئیں، لیکن کہا کہ ان اقدامات کا فیصلہ ’رویے کی شدت کے جائزے‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ گرفتاری ’مزید کئی گرفتاریوں کی شروعات‘ ہو گی۔

اس کے ساتھ ہی، ٹرمپ انتظامیہ نے کولمبیا یونیورسٹی کو 40 کروڑ ڈالر سے زائد کی وفاقی فنڈنگ سے محروم کر دیا ہے، یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ یونیورسٹی کیمپس میں یہود دشمنی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کانگریس کے رپبلکن اراکین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کی جانب سے ہیملٹن ہال کے واقعے میں ملوث طلبہ کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرنا اس کی ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے۔

 ۔ گزشتہ ہفتے، امریکی حکومت نے یونیورسٹی پر 400 ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا تھا، جس کی وجہ کیمپس میں یہودی طلبہ کو مبینہ ہراسانی سے نمٹنے میں ناکامی بتائی گئی تھی۔

Watch Live Public News