بجٹ 2025-26: IMFکاریونیوبڑھانے،اخراجات میں کٹوتی پرزور

بجٹ 2025-26: IMFکاریونیوبڑھانے،اخراجات میں کٹوتی پرزور
کیپشن: بجٹ 2025-26: IMFکاریونیوبڑھانے،اخراجات میں کٹوتی پرزور

ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سال کے دوران اپنا مجموعی ریونیو 20 ہزار ارب روپے تک لے جائے، جو کہ رواں مالی سال کے اندازاً 17.8 ہزار ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

بجٹ مذاکرات کا اہم مرحلہ 19 مئی سے شروع ہوگا

تین روزہ تکنیکی مذاکرات کے بعد اب پالیسی سطح پر گفت و شنید کا آغاز 19 مئی سے 23 مئی تک ہوگا، جس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی حتمی شکل طے کی جائے گی۔ وفاقی بجٹ کا اعلان 2 جون 2025 کو متوقع ہے۔

شرح نمو اور مہنگائی کے تخمینے

آئی ایم ایف نے مالی اور مانیٹری پالیسیوں کے حوالے سے اہم تخمینے پیش کیے ہیں:

شرح نمو (GDP Growth): 3.6 فیصد

مہنگائی کی اوسط شرح: 7.7 فیصد (رواں سال کے 5.1 فیصد سے زائد)
ان اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت کو اندازہ ہے کہ اگلے سال تقریباً 1400 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

زرعی آمدن پر ٹیکس، صوبوں کا کردار اہم

ذرائع کے مطابق، وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ صوبوں کو بھی محصولات کے دائرے میں وسعت دینے پر زور دیا جا رہا ہے، جس میں زرعی آمدن پر ٹیکس ایک کلیدی عنصر ہو گا۔

ریونیو و اخراجات کے اہداف

ریونیو ہدف (2025-26): 19.9 ہزار ارب روپے (جی ڈی پی کا 15.2٪)
حکومتی اخراجات: 26.57 ہزار ارب روپے (رواں سال کے 18.9 ہزار ارب سے کہیں زیادہ)
اخراجات کو جی ڈی پی کے 20.3٪ تک محدود رکھنے کا مطالبہ

بجٹ خسارہ اور قرضوں کا بوجھ کم کرنے کا پلان

آئی ایم ایف کی جانب سے بجٹ خسارے کو 5.1٪، یعنی 6.67 ہزار ارب روپے تک لانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ پرائمری سرپلس (سودی ادائیگیوں کے بغیر اخراجات اور آمدن کا فرق) کو 2.1 ہزار ارب روپے پر برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی قرضوں کا بوجھ جی ڈی پی کے 77.6٪ سے کم کرکے 75.6٪ تک لانا ہے۔

ماحولیاتی اخراجات کی کلائمیٹ ٹیگنگ

وفاقی وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں اور اداروں کو نئی فارم III-C جمع کروانے کی ہدایت دی ہے، جس میں سبسڈی میں شامل ماحولیاتی اثرات کی تفصیل شامل ہوگی۔ یہ اقدام آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کا حصہ ہے۔

حکومت نے بجٹ میں ماحولیاتی مطابقت کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے:

انطباق (Adaptation)
تخفیف (Mitigation)
منتقلی (Transition)
اب ترقیاتی منصوبے، سبسڈی، اور گرانٹس سمیت تمام اخراجات کو ”کلائمیٹ ٹیگنگ“ کے تحت شامل کیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی اثرات پر حکومتی اخراجات کی شفاف تصویر سامنے آ سکے۔

Watch Live Public News