ویب ڈیسک: سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق چند ہفتے قبل آغا سراج درانی کو برین ہیمبرج کے باعث ہسپتال لایا گیا تھا۔ آغا سراج درانی پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماوں محترمہ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔
آغا سراج درانی طویل عرصے سے سندھ اسمبلی کے رکن متخب ہوتے رہے ہیں۔ وہ سندھ میں وزیر تعلیم بھی رہے۔ آغا سراج درانی کے والد اور چچا بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر رہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت کا سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار۔ دونوں رہنماؤں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ صدر مملکت نے آغا سراج درانی کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی نے جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ صدر نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آغا سراج درانی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے آغا سراج درانی کی سیاسی و عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی قیادت نے بھی سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وہ ایک مخلص ،اصول پسند اور عوامی خدمت پر یقین رکھنے والے سیاستدان تھے۔ آغا سراج درانی کی پارٹی اور جیالوں سے لازوال کمٹمنٹ ہمارا اثاثہ ہے۔
حسن مرتضیٰ نے کہا کہ سابق سپیکر سندھ اسمبلی نے پارلیمانی سیاست پر مثبت اثرات چھوڑے۔ اللہ تعالی انکی آخری منزلیں آسان، لواحقین اور پارٹی کارکنوں کو صبر دے۔