ویب ڈیسک: مظفرگڑھ کا ایک منفرد شخصیت رکھنے والا بھکاری، شوکت، ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔ یہ حادثہ موضع جھینگر ماڑھا کے قریب اس وقت پیش آیا جب شوکت اپنی موٹر سائیکل پر جا رہے تھے اور ایک لوڈر رکشے سے جا ٹکرائے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق شدید ٹکر کے باعث شوکت موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
شوکت بھکاری مظفرگڑھ اور ملتان کی سڑکوں پر اپنے انوکھے اندازِ بھیک کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ وہ عام بھکاریوں سے مختلف تھے اور اپنی شخصیت کو ایک ”برانڈ“ کی طرح پیش کرتے تھے۔ شوکت اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لوگوں سے بھیک مانگتے اور اکثر اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیتے کہ وہ کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ ایک فنکارانہ انداز میں بھیک مانگتے ہیں۔
ان کی سب سے منفرد عادت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ صرف ایک روپیہ مانگتے۔ اگر کسی کے پاس ایک روپیہ نہ ہوتا تو وہ خود دس روپے دے دیتے۔ ان کا ماننا تھا کہ یہ انداز لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور یوں وہ زیادہ رقم کما لیتے ہیں۔ شوکت اپنے بینک اکاؤنٹس اور اسٹیٹمنٹس فخریہ طور پر دکھاتے، جن میں لاکھوں روپے موجود ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مظفرگڑھ کے ”امیر ترین بھکاری“ کے طور پر جانے جاتے تھے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق شوکت شاہ جمال کے رہائشی تھے اور تین بچوں کے باپ تھے۔ صرف بینک بیلنس ہی نہیں بلکہ ان کے پاس کئی ایکڑ زرعی زمین بھی موجود تھی۔ ان کی زندگی نے بھیک مانگنے کے تصور کو بالکل مختلف انداز میں پیش کیا اور یہی ان کی شہرت کا سبب بنا۔