ایمان مزاری کی چیف جسٹس کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی انسداد ہراسانی کمیٹی کو درخواست

ایمان مزاری کی چیف جسٹس کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی انسداد ہراسانی کمیٹی کو درخواست
کیپشن: ایمان مزاری کی چیف جسٹس کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کی انسداد ہراسانی کمیٹی کو درخواست

ویب ڈیسک: ایمان مزاری اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر تنازعے میں نیا موڑ آگیا۔ 

تفصیلات کے مطابق ایمان مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی خواتین کی انسداد ہراسانی کمیٹی کو درخواست دیدی۔ درخواست میں متن میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ورک پلیس پر ہراساں کیا، انسدادِ ہراسانی ایکٹ کے تحت انکوائری کی جائے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ قرار دیا جائے کہ چیف جسٹس نے ایمان مزاری سے جنسی، امتیازی اور دھمکی آمیز اور نامناسب رویہ روا رکھا۔ 

درخواست میں استدعا کی گئی کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کو شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے کا مرتکب قرار دیا جائے اور اُنکے خلاف ہراساں کرنے پر تجاویز مجاز اتھارٹی سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی جائیں۔

تنازعہ دراصل ہے کیا؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور ایمان مزاری کے درمیان ماہرنگ بلوچ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے کیس میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ 

سماعت کے دوران جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری کو مبینہ طور پر انہیں ’آمریت پسند‘ کہنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی تنبیہ کی تھی۔ 

مبینہ طور پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایمان مزاری سے متعلق کہا کہ ''ہادی صاحب اسے سمجھائیں، جس دن میں نے پکڑ لیا نہ۔''

تاہم بعد ازاں چیف جسٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی بات کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ 

Watch Live Public News