ویب ڈیسک: وائٹ ہاؤس نے میڈیا سے متعلق ایک نئی پالیسی جاری کی ہے جس کے تحت بین الاقوامی سطح پر معروف خبر رساں اداروں، جیسے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)، بلوم برگ اور رائٹرز، کی میڈیا رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کو ذرائع ابلاغ اور آزادی صحافت کے ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایسوسی ایٹڈ پریس اور وائٹ ہاؤس کے مابین میڈیا رسائی پر قانونی تنازع جاری تھا۔ حال ہی میں وفاقی جج ٹریور میک فیڈن نے اے پی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے وائٹ ہاؤس کی تقریبات کی کوریج کی اجازت دی تھی، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس عدالتی فیصلے کو پس پشت ڈال کر پابندیاں عائد کر دیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیووٹ اب فیصلہ کریں گی کہ کون سے صحافی تقریبات میں شرکت کر سکتے ہیں اور کس کو سوالات کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس تبدیلی کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، اور مستقبل میں بھی اسی طریقہ کار کے تحت میڈیا کو رسائی دی جائے گی۔
’گلف آف میکسیکو‘ پر اختلاف وجہ تنازع؟
ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایسوسی ایٹڈ پریس سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ "گلف آف میکسیکو" کا نام بدل کر اسے "امریکی خلیج" لکھے۔ اے پی نے اس مطالبے کو صحافتی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے فوراً بعد اس کے رپورٹرز اور فوٹوگرافرز کی وائٹ ہاؤس تقریبات میں شرکت روک دی گئی۔
نئی پالیسی کے مطابق، اب تین بڑی وائر سروسز — ایسوسی ایٹڈ پریس، بلوم برگ اور رائٹرز — کو ایک ہی کیٹیگری میں شمار کیا جائے گا، اور ان کے لیے صرف دو نشستیں مختص ہوں گی۔ یہ نشستیں تقریباً 36 صحافیوں کے درمیان باری باری تقسیم کی جائیں گی، جس سے ان اداروں کی موجودگی اور نمائندگی پر واضح اثر پڑے گا۔
آزادی صحافت پر اثر؟
میڈیا ماہرین اور صحافتی تنظیمیں اس پالیسی کو آزادی صحافت پر قدغن قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح کے معتبر اداروں کو اس طرح محدود کرنا شفافیت کے خلاف ہے اور صحافت کے بنیادی اصولوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔