نداخان کیس:مودی کی مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی کہانی

نداخان کیس:مودی کی مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی کہانی
کیپشن: نداخان کیس:مودی کی مسلمانوں کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی کہانی

ویب ڈیسک: بھارت میں ندا خان کا کیس مودی حکومت کی  تعلیم یافتہ سفید کالر مسلمانوں  کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے والی کہانی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 

تفصیلات کے مطابق ندا خان ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے بی پی او یونٹ میں ایچ آر مینیجر تھیں۔ان پر اپنے مسلمان ورکر ساتھیوں کے ساتھ مل کرجنسی ہراسمنٹ اور زبردستی مزہب تبدیلی کے الزامات لگا ئے گئے۔بھارتی میڈیا نے سنسنی پھیلا دی۔کیس میں ندا خان کے ساتھ جن افراد پر الزامات ہیں ،سب مسلمان ہیں ۔ ندا خان پر ہندو خواتین کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کاجھوٹا الزام لگایا گیا۔
بھارتی میڈیا نے ندا خان کو "دہشت گرد نیٹ ورک" کا حصہ دکھایا ۔ںدا خان کا تعلق ڈاکٹر شاہین سے جوڑا گیا۔ندا خان کو 10 اپریل 2026 کو گرفتار کیا گیا تھا۔اشوینی چینی (ایک ہندو خاتون) سمیت۔کل آٹھ الزام یافتہ گرفتار ہو چکے ہیں۔جن میں شفی شیخ، آصف انصاری، توصیف عطار، شاہ رخ قریشی، رضا میمن، دانش شیخ شامل ہیں۔
اشوینی چینی ندا خان سے سینئرپوزیشن پر تھیں۔ بھارتی میڈیا اور اداروں نے اشوینی چینی جو سینئر تھیں پوچھ گچھ کرنے کی بجائے صرف مسلمانوں کی کردار کشی کی۔ندا خان کے خلاف مارچ 26 اور اپریل 3 کے درمیان نو ایف آئی آرز درج ہوئیں۔ان میں آٹھ خواتین (زیادہ تر جونیئر لیول کی ملازمین، زیادہ تر ہندو پس منظر کی) اور ایک مرد ساتھی شامل ہیں۔

بھارت میں انصاف کا دہرا معیار، ندا خان پولیس حراست جبکہ اشوینی چینی جوڈیشل کسٹڈی میں ہیں۔ندا خان ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز میں عزت کی حامل ایچ آر مینیجر تھیں۔وہ ساویتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھیں۔ان کا کام ملازمین کی شکایات سننا اور POSH ایکٹ تھا۔ندا خان کو بھارتی میڈیا اور سیاسی قوتوں نےدہشت گرد کے طور پہ پیش کیا ۔ندا خان کو "کارپوریٹ جہاد" اور "لو جہاد" کے ہندتوا بیانیے کا حصہ بنایا گیا تھا۔ندا خان کے خلاف الزامات بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے تھے۔ان کے کیس کوآر ایس ایس سے جڑی جماعتوں نے سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا ۔ںدا خان کو بھارت میں پڑھی لکھی اور کامیاب ٘مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ندا خان کو مذہبی سازش کا حصہ بنا کر پیش کیا گیا۔

آر ایس ایس، بی جے پی اور وی ایچ پی نے ندا خان کا کیس کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا ۔مذہب کی بنیاد پر کارپوریٹ جہاد اور لوجہاد کے نام پر ندا خان کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔بھارتی حکومت نے ایران-امریکہ تنازعے کے بعد ہونے والی شرمندگی سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے ندا خان کا کیس استعمال کیا۔لوگ ناکام خارجہ پالیسی پر مودی اور جے شنکر سے استعفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

Watch Live Public News