ویب ڈیسک: بھارت کی ریاست راجستھان میں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں وزیراعلیٰ بھجن لال شرما کے قافلے کی گزرگاہ پر ٹریفک روٹ تبدیل کیے جانے کے بعد ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل سوار تین طلبہ کو ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں ایک طالب علم موقع پر ہی جاں بحق جبکہ دو دیگر شدید زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا دی فری پریس جرنل کے مطابق واقعہ جودھپور کے ایئرپورٹ تھانہ علاقے میں اس وقت پیش آیا جب تینوں طلبہ یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے برکت اللہ خان اسٹیڈیم جارہے تھے۔ اسی دوران وزیراعلیٰ شرما شہید سمارک کی طرف روانہ تھے اور قافلے کے لیے روٹ کو خالی کرایا گیا تھا۔
حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار طالب علم برکت اللہ موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کے دو ساتھی پردیپ اور مہاویر زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور جاں بحق ہونے والے طالب علم کے لواحقین نے انتظامیہ کو سنگین غفلت کا ذمہ دار قرار دیا۔
جاں بحق طالب علم کی بہن کومل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب اہل خانہ موقع پر پہنچے تو برکت اللہ کی لاش سڑک پر پڑی تھی اور زخمی دوست تڑپ رہے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس نے سخت سردمہری دکھائی اور متاثرہ خاندان کی کوئی بات نہ سنی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا جاسکا کہ طلبہ کو کچلنے والی گاڑی وزیراعلیٰ کے قافلے کی تھی یا کوئی ڈمپر یا بس۔ اس ابہام نے لواحقین کے خدشات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ عوامی سطح پر اس حادثے پر شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور شہریوں نے وزیراعلیٰ کے پروٹوکول کے نام پر قیمتی جان ضائع ہونے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔