ویب ڈیسک:امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اوول آفس میں اپنا الوداعی خطاب کیا ہے جس میں انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ چند انتہائی امیر لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت کا آجانا خطرناک ہے۔ اگر ان کے اختیارات کے غلط استعمال کو نہ روکا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں بہت زیادہ دولت، طاقت اور اثر و رسوخ 'اولیگاریکی' کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس سے امریکہ میں پوری جمہوریت، بنیادی حقوق اور آزادیوں کو حقیقت میں خطرات لاحق ہیں۔
جو بائیڈن نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا اولیگاری سے کیا مراد ہے۔
انہوں نے خطاب میں سوشل میڈیا کے حوالے سے بڑی کمپنیوں کے فیصلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
بائیڈن کا کہنا تھا کہ آزاد صحافت تباہ ہو رہی ہے۔ ایڈیٹرز کا کردار ختم ہوتا جا رہا ہے جب کہ سوشل میڈیا بھی فیکٹ چیک ختم کر رہا ہے۔ طاقت اور منافع کے لیے بولے جانے والے جھوٹ سے سچائی کو کچل دیا جاتا ہے۔
جو بائیڈن نے اپنے دورِ صدارت کا خاتمہ ایک سفارتی محاذ پر بڑی کامیابی کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے خطاب میں اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس میں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا ہے۔
اس معاہدے پر زیادہ تر عمل درآمد امریکا میں آئندہ ہفتے آنے والی نئی انتظامیہ کے دور میں ہوگا۔
جو بائیڈن نے الوداعی خطاب میں کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت کی تھی کہ وہ نئی انتظامیہ کو پوری طرح باخبر رکھے۔
بدھ کی صبح جو بائیڈن نے ایک خط بھی جاری کیا جس میں انہوں نے اپنی انتظامیہ کے ساتھ دورِ صدارت کا 2021 میں آغاز کیا جب دنیا کو کرونا وبا کا سامنا تھا جب کہ اس وقت امریکہ کے دارالحکومت پر ان کے حریف کے حامیوں نے دھاوا بول دیا تھا تاکہ نومبر 2020 میں ہونے والے الیکشن کے نتائج کو تبدیل کیا جا سکے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں جو بائیڈن کو کامیابی ملی تھی۔
عوامی رائے عامہ کے سروے کرنے والی امریکی کمپنی ’گیلپ‘ کے مطابق جو بائیڈن صدارت کا عہدہ ایسے موقع پر چھوڑ رہے ہیں جب ان کی امریکی عوام میں تائید صرف 39 فی صد ہے۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے قوم سے الوداعی خطاب میں کہا کہ ان کے دور حکومت میں امریکا نے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا، چین نہیں امریکا کو دنیا کی قیادت کرنی ہے۔
بدھ کو وائٹ ہاؤس سے امریکی صدر جو بائیڈن نے قوم سے الوداعی خطاب کیا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ نائب صدر کمالا ہیرس اور ٹیم کے ساتھ کی وجہ سے حکومت نے میرے دور میں مشکلات عبور کیں،ہمیں امریکا میں جمہوریت کو محفوظ بنانا ہے،چند امیر لوگوں کے ہاتھوں میں طاقت آنے پر فکر مند ہوں۔
جوبائیڈن نے کہا موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کا دور ہے جس سے ہمیں اپنی نئی نسل کو بچانا،مصنوعی ذہانت کو حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نہیں امریکا کو دنیا کی قیادت کرنی ہے۔
اس کے علاوہ جو بائیڈن نے غزہ جنگ بندی معاہدے کا بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے بہترین سفارتکاری کی، اگلے مرحلےمیں امریکی یرغمالیوں کی رہائی شامل ہوگی، غزہ جنگ بندی کے لیے میری ٹیم اور ڈونلڈٹرمپ نے مل کر کام کیا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے کمزور ہونے کے بعد حماس پر دباؤ تھا، بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حماس کو جنگ بندی کے لیے مجبور کیا۔
آخر میں صدر جوبائیڈن نے ٹرمپ انتظامیہ کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔
جو بائیڈن نے بدھ کو اپنے الوادعی خطاب کا اختتام خدمت کا اعزاز دینے پر امریکی عوام کے شکریے کے ساتھ کیا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ میں آج بھی اس نظریے پر یقین رکھتا ہوں جس کے لیے قوم کھڑی ہے۔ ایک ایسی قوم جس کے لیے اداروں کی مضبوطی اور افراد کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔
یہ جو بائیڈن کا امریکا کے صدر کے دفتر ’اوول آفس‘ سے پانچواں اور آخری خطاب تھا۔
واضح رہے کہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری 20 جنوری کو منعقد ہوگی۔