اسرائیل فلسطین امن معاہدہ، غزہ ، تل ابیب میں جشن، دنیا کا خیر مقدم

اسرائیل فلسطین امن معاہدہ، غزہ ، تل ابیب میں جشن، دنیا کا خیر مقدم

 ویب ڈیسک : قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان التھانی نے قطر میں بدھ کو رات گئے ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔دنیا بھر میں امن معاہدے کا  خیر مقدم،  تباہ حال غزہ کی گلیوں  میں فلسطینیوں کا جشن۔تل ابیب میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19 جنوری سے ہو گا اور اس کی مخصوص ٹائمنگ پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ یہ جنگ کے اختتام کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

اسرائیل کا خیر مقدم

اسرائیلی صدر آئزک ہرتزوگ نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا یہ خیر موقف بدھ کے روز ایک ٹی وی انٹرویو میں سامنے آیا۔ہرتزوگ کا کہنا تھا کہ " اسرائیل کے صدر کی حیثیت سے میں پوری وضاحت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ ہی درست راستہ ہے، یہ ایک اہم راستہ ہے، ایک ضروری راستہ ہے۔ ہمارے بچے اور بچیوں کی واپسی سے زیادہ اہم کوئی اخلاقی، انسانی، یہودی یا اسرائیلی پاسداری نہیں ہے، خواہ وہ اپنے گھروں کو خیریت کے ساتھ لوٹیں یا پھر سلامتی کے ساتھ رہیں"۔

غزہ اور تل ابیب میں خوشی کی لہر

 تباہ حال غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ، خان یونس میں  شہریوں نے معاہدے کا جشن منانا شروع کردیا۔   

یہ بھی پڑھیں:  جنگ بندی معاہدہ فائنل، اسرائیل یرغمالیوں کے بدلے 1 ہزار فلسطینی قیدی رہا کرے گا

لوگ سڑکوں پر نکل آئے اسی طرح تل ابیب میں بھی جشن مسرت کا ماحول ہے اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین ہاتھ میں بینرز اور بل بورڈ اٹھائے سڑکوں پر آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے رہے۔

پاکستان کا غزہ فائر بندی کا خیر مقدم، مکمل عمل در آمد کا مطالبہ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ غزہ فائر بندی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس پر فوری اور مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امید ہے کہ یہ فائر بندی مستقل سیز فائر کا باعث بنے گی اور اس سے انسانی امداد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

’اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے لاتعداد جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہے اور لاکھوں بے گناہ فلسطینی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کے قابضانہ عزائم نے پورے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے، اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

 امریکی صدر جو بائیڈن کی تصدیق

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
نائب وزیر اعظم کملا ہیرس اور وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ’غزہ میں لڑائی رک سکے گی، فلسطینی شہریوں کو انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی اور یرغمالیوں کو ان کے خاندانوں کے ساتھ 15 ماہ کی قید کے بعد ملنے کا موقع ملے گا۔

یرغمالیوں کی رہائی کے لئے شکریہ، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے سرکاری بیان سے پہلے ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ تاہم انہوں نے اپنا بیان اسرائیلی یرغمالیوں تک محدود رکھا۔  ٹرمپ نے اپنے ’ٹرتھ‘ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’مشرق وسطیٰ میں یرغمالیوں کے لیے معاہدہ ہوا ہے۔ ان کو جلد رہا کیا جائے گا۔ بہت شکریہ۔‘

سعودی عرب کا خیر مقدم

سعودی عرب کی جانب سے بدھ کوغزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے قطر، مصر اور امریکی کوششوں کو سراہا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کےمطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری، غزہ پٹی میں اسرائیلی جارحیت کی فوری طور پر خاتمے پر زور دیا۔

  امن معاہدہ خطے کے استحکام کیلئے اہم ،ترکیہ

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی معاہدہ خطے کے استحکام کے لیے اہم ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کے لیے ترکیہ کی کوششیں جاری رہے گی۔

فلسطینیوں کی امداد بڑھائیں گے ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کہا’ صحافیوں سے گفتگو میں کہنا ہے اقوام متحدہ اس معاہدے پر عملدرآمد کی سپورٹ کرنے اور ان لاتعداد فلسطینیوں کو جو مسلسل مصائب کا سامنا کررہے ہیں کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی بڑھانے کو تیار ہے۔

فرانس ، جرمنی سمیت یورپی یونین کا خیر مقدم

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈر لین نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا گرم جوشی سے خیرمقدم  کرتے ہوئے کہا ہے کہ یرغمال اب اپنے پیاروں سے دوبارہ مل جائیں گے اور انسانی امداد غزہ کے شہریوں تک پہنچ سکے گی۔ اس (معاہدے) سے پورے خطے میں، جہاں لوگ طویل عرصے سے مصائب برداشت کر رہے ہیں، امید پیدا ہوئی ہے ۔ فریقین کو خطے میں پائیدار استحکام اور تنازعات کے سفارتی حل کی جانب بڑھنے کے لیے اس معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کرنا چاہیے‘۔

مصر کی جانب سے جنگ بندی کا خیر مقدم

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ایکس اکاونٹ پر غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا اور غزہ کو انسانی امداد کی تیزی سے ترسیل کی اہمیت پر زور دیا۔
برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے ایک بیان میں کہا’ کئی ماہ کی تباہ کن خونریزی اور بے شمار جانیں گنوانے کے بعد یہ طویل عرصے سے زیرالتوا وہ حبر وہ خبر ہے جس کا اسرائیلی اور فلسطینی عوام شدت سے انتظار کر رہے تھے۔’اس جنگ بندی سے انسانی امداد میں اضافے کی اجازت ملنی چاہیے، جس کی غزہ میں مصائب کے خاتمے کے لیے اشد ضرورت ہے۔‘


انہوں نے مزید کہا ’ہماری توجہ اس جانب ہونی چاہیے کہ ہم اسرائیل اور فلسطینی عوام کے لیے مستقل طور پر بہتر مستقبل کیسے حاصل کرسکتے ہیں، جو دو ریاستی حل پر مبنی ہے جو ایک خود محتار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے ساتھ ساتھ اسرائیل کےلیے سلامتی اور استحکام کی ضمانت دے گا۔‘
 
 

Watch Live Public News