(ویب ڈیسک ) کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے علماء نے دہشتگردی کے خلاف یکساں مؤقف اختیار کیا۔
علماء و خطباء نے اعلان کیا کہ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔علما ئے کرام نے کہا کہ اسلام کے نام پر قتل و غارت کرنے والے باغی اور خارجی ہیں، پاکستان ایک اسلامی اور آئینی ریاست ہے، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔
علمائے کرام نے کہا کہ مسلح تشدد، بغاوت اور فرقہ واریت شرعا اور آئین کی روح سے ناجائز ہے۔ جہاد کا اعلان صرف ریاست کا اختیار، کسی فرد یا گروہ کو اجازت نہیں،پاک فوج، اداروں اور شہریوں پر حملے اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات کی خلاف ورزی ہیں، تمام مکاتبِ فکر کے علماء ریاست اور افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
علماء نےوزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
علمائے کرام نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں علماء پہلے بھی ساتھ تھے، آج بھی ساتھ ہیں،قومی پیغام پاکستان محض اعلامیہ نہیں بلکہ جامع اسلامی و آئینی بیانیہ ہے،قومی پیغام پاکستان کے اعلامیہ پر تمام مکاتب فکر کے علماء کے دستخط موجود ہیں ۔
علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ تکفیر، نفرت انگیز تقاریر اور مسلکی تعصب اتحادِ امت کے لیے زہرِ قاتل ہیں،باہمی احترام، مکالمہ اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔