ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات، امریکا میں مہنگائی کی شرح 2.7 فیصد تک جا پہنچی

ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات، امریکا میں مہنگائی کی شرح 2.7 فیصد تک جا پہنچی
کیپشن: ٹرمپ کے ٹیرف کے اثرات، امریکا میں مہنگائی کی شرح 2.7 فیصد تک جا پہنچی

ویب ڈیسک: امریکا میں مہنگائی کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی اشیاء پر عائد کردہ نئے ٹیرف بتائے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث کپڑوں سے لے کر کافی تک متعدد اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ محنت کے مطابق جون 2025 تک کے ایک سال میں صارف قیمتوں میں 2.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مئی میں 2.4 فیصد تھا۔ یہ فروری کے بعد سب سے زیادہ ماہانہ اضافہ ہے۔

مہنگائی کی بنیادی وجوہات میں توانائی اور رہائشی اخراجات شامل ہیں، خاص طور پر کرایوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق ٹیرف کے اثرات اب صارفین تک منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ کچھ کمپنیاں اضافی لاگت کا بوجھ خریداروں پر ڈال رہی ہیں۔

کافی کی قیمت ایک ماہ میں 2.2 فیصد بڑھی
رس والے پھلوں کی قیمت 2.3 فیصد اوپر گئی
کھلونوں میں 1.8 فیصد اور
گھریلو آلات میں 1.9 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا
کپڑوں کی قیمتوں میں 0.4 فیصد کا معمولی مگر اہم اضافہ دیکھا گیا، جو کئی ماہ بعد ہوا ہے
تاہم کچھ اشیاء مثلاً نئی اور پرانی گاڑیاں، ہوائی سفر اور ہوٹل بکنگ سستی ہوئی ہیں، جس سے مجموعی اثر کچھ حد تک کم ہوا۔

فچ ریٹنگز کے ماہر اقتصادیات اولو سونولا کے مطابق "گھریلو اشیاء اور فرنیچر کی قیمتوں میں جو اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہ غالباً ٹیرف کے باعث ہے۔ یہ سلسلہ آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔"
رواں سال امریکا میں اوسط مؤثر ٹیرف ریٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، صدر ٹرمپ نے 10 فیصد درآمدی ٹیکس کا نفاذ کیا ہے جو اسٹیل اور گاڑیوں جیسی اہم اشیاء پر مزید سخت ہے۔

اگرچہ کچھ سخت فیصلوں کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا گیا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے پھر سے ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دی ہے، اور یکم اگست سے درآمدات پر مزید محصولات لگانے کا عندیہ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی صنعتوں کا تحفظ، مقامی پیداوار و ملازمتوں میں اضافہ اور سرکاری آمدن بڑھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس ان خدشات کو مسترد کرتا ہے کہ ان اقدامات سے امریکی صارفین پر مہنگائی کا بوجھ پڑے گا۔

اقتصادی ماہرین کی اکثریت اس مؤقف سے اختلاف کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب تک اثرات اس لیے محدود تھے کیونکہ کمپنیاں پہلے سے مال ذخیرہ کر چکی تھیں۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ کے شرح سود میں کمی کے مطالبات کے باوجود امریکی مرکزی بینک نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی میں شرح سود میں کمی کا امکان کم ہے، جبکہ ستمبر میں امکانات نئے مہنگائی اعداد و شمار کے بعد منقسم ہو چکے ہیں۔

Watch Live Public News