ویب ڈیسک: کیوبا کی وزیر برائے محنت مارتا ایلینا فیئتو کابررا کو ایک متنازع بیان دینے کے بعد عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے قومی اسمبلی میں دعویٰ کیا تھا کہ "کیوبا میں کوئی بھکاری موجود نہیں" اور جو لوگ کچرے میں چیزیں تلاش کرتے ہیں، وہ "آسان پیسے کمانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔"
ان کے اس بیان پر کیوبا کے اندر اور بیرون ملک شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جس کے بعد صدر میگل دیاز کانیل نے بھی بالواسطہ طور پر ان پر تنقید کی۔ اس کے فوراً بعد وزیر نے اپنا استعفیٰ دے دیا۔
عوامی ردعمل اور صدر کا مؤقف
مارتا فیئتو نے دعویٰ کیا تھا کہ "کیوبا میں بھکاری نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو خود کو بھکاری ظاہر کر کے آسان پیسے کمانا چاہتے ہیں۔"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچرے سے چیزیں چننے والے دراصل غیرقانونی ری سائیکلنگ کے 'شرکاء' ہیں۔
ان کے الفاظ کو عوام کی توہین، حقیقت سے لاتعلقی اور سنگ دلی قرار دیا گیا۔
کیوبا کے معروف ماہر معاشیات پیدرو مونریئل نے ایک طنزیہ تبصرہ میں لکھا کہ "تو پھر شاید کچھ لوگ 'وزیر' کا روپ دھارے ہوئے ہیں۔"
سول سوسائٹی کا دباؤ اور استعفی
متعدد سماجی کارکنوں اور دانشوروں نے ایک کھلے خط میں ان کے بیان کو "کیوبن عوام کی توہین" قرار دیا اور ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ صدر نے پارلیمان میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ "قیادت کو نرم مزاجی کے ساتھ اور عوامی حقیقتوں سے جڑے رہ کر کام کرنا چاہیے۔"
اگرچہ انہوں نے نام نہیں لیا، لیکن یہ اشارہ صاف طور پر فیئتو کابررا کی جانب تھا۔ بعد ازاں کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی اور حکومت نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا۔
معاشی بحران میں گھرا کیوبا
کیوبا اس وقت شدید معاشی بدحالی، خوراک کی کمی اور بنیادی سہولیات کی قلت کا شکار ہے۔ اگرچہ حکومت بھکاریوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتی، لیکن سڑکوں پر ان کی موجودگی واضح طور پر بڑھ چکی ہے، جو معاشی بحران کا مظہر ہے۔