ویب ڈیسک: 1948 میں جب فضائی سفر ایک نیا تجربہ تھا، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے درمیان صرف 20 منٹ کی پرواز کو " سگریٹ فلائٹ" کہا جاتا تھا — کیونکہ جتنی دیر میں ایک سگریٹ ختم ہو، اتنے وقت میں منزل آ جاتی۔ لیکن 16 جولائی 1948 کا دن ہوا بازی کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل گیا۔
"مس مکاؤ" نامی ایک سی پلین، جو ہانگ کانگ کے لیے روانہ ہوا تھا، پرواز کے دوران ہائی جیک کر لیا گیا۔ اس واقعے کو دنیا کی پہلی فضائی ہائی جیکنگ قرار دیا جاتا ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
اس پرواز میں 27 افراد سوار تھے، جن میں دو پائلٹ، ایک ایئر ہوسٹس، اور 24 مسافر شامل تھے۔ ان میں سے چار مسافروں نے ایک منصوبہ بنایا تھا۔جس کے تحت طیارے کو ہائی جیک کر کے چین کے علاقے گوانگڈونگ لے جایا جانا تھا اور امیر مسافروں کو لوٹ کر تاوان وصول کرنا تھا۔
لیکن جب ہائی جیکنگ کی کوشش کی گئی تو طیارے کے پائلٹس نے مزاحمت کی، فائرنگ ہوئی، اور دونوں پائلٹس مارے گئے۔ جس کے بعد طیارہ سمندر میں جا گرا۔
اکلوتا زندہ بچنے والا
حادثے کا صرف ایک مسافر، وانگ یو، بچ سکا۔ ابتدائی طور پر اس نے دعویٰ کیا کہ جہاز فضاء میں پھٹ گیا، لیکن تحقیقات اور خفیہ پولیس اہلکاروں کی چالاکی سے وہ سچ اگلنے پر مجبور ہوا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ اور اس کے ساتھی جہاز کو ہائی جیک کرنا چاہتے تھے۔
انصاف نہ ہو سکا
بین الاقوامی قوانین کی کمی اور نوآبادیاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے وانگ یو پر مقدمہ نہ چلایا جا سکا۔ اسے 1951 میں چین ڈی پورٹ کر دیا گیا، جہاں وہ کچھ ہی عرصے بعد انتقال کر گیا۔
عالمی ہوا بازی میں نئی تاریخ رقم
اس واقعے کے بعد بھی کئی سال تک فضائی سیکیورٹی کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ مگر 1960 کی دہائی میں ہائی جیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور بالآخر 1970 میں اقوامِ متحدہ نے فضائی ہائی جیکنگ کو عالمی جرم قرار دیا۔
امریکہ نے 1973 میں مسافروں کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز اور بیگز کی اسکیننگ لازمی قرار دی — وہی سیکیورٹی جو آج ہمیں ہر ایئرپورٹ پر دکھائی دیتی ہے۔