(ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کے ممکنہ حملے کی صورت میں حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کی ہدایت دے دی۔جس کی وجہ سے عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے یمن کی حوثی تحریک کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا تو وہ بحیرۂ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس اقدام سے عالمی توانائی کی سپلائی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر ایرانی قیادت کے اندر غور کیا جا چکا ہے اور تہران نے یہ پیغام اپنے حوثی اتحادیوں تک بھی پہنچا دیا ہے۔ دو سینئر ایرانی ذرائع اور خطے سے واقف ایک ذرائع نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ حوثیوں کو حال ہی میں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے نظام پر حملے کی دھمکی کے بعد دیا گیا یا اس سے پہلے۔
ایران کی وزارت خارجہ اور حوثی ترجمان نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
حوثیوں نے باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کر دیے
حوثیوں کے قریب ایک ذریعے نے بتایا کہ گروپ نے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس مقصد کے لیے یمن کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب میزائل اور ڈرون تعینات کیے گئے ہیں، اور اب صرف کارروائی کا حکم ملنے کا انتظار ہے۔
اگر باب المندب میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس سے پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والا عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمد کے دونوں اہم بحری راستے بیک وقت متاثر ہوں گے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن میں موجود ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے نمائندے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ باب المندب کو کب بند کیا جائے۔
یاد رہے کہ موجودہ بحران کا آغاز 28 فروری کو اس وقت ہوا جب اسرائیل اور امریکا نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز بند کر دی۔ جون میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی بھی ناکام ہو چکی ہے، جس کے باعث ایک بار پھر بڑے پیمانے پر جنگ اور عالمی توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔